سائنس ڈپلومیسی: علم 'سافٹ پاور' بننے کا ذریعہ بن گیا
بین الاقوامی تعلقات کی تاریخ نے بار بار بعض سچائیوں کی تصدیق کی ہے۔ کہ مملکتوں کے درمیان تعلقات اور معاہدات محض مذاکرات کے لیے سجائے گئے کمروں یا سفارت خانوں کے کھولے جانے سے ہی شروع نہیں ہوتے۔ بلکہ عام طور یہ تعلقات ایسے پلوں اور چینلز کے توسط سے بنتے اور بڑے بڑے معاہدوں پر دستخط کا باعث بنتے ہیں۔ ان میں تجارت، ثقافت اور سائنس و ٹیکنالوجی بھی انتہائی اہم کردار ادا کرتے ہیں۔
یہ امر ابھی کسی حیرت یا تعجب کا مؤجب نہیں رہا ہے کہ مملکتوں کی یونیورسٹیاں اور تحقیقی مراکز سفارت خانوں سے بھی زیادہ اثر آفرینی کا ذریعہ بن گئی ہیں۔ اب سائنس اور ٹیکنالوجی بھی محض تعلیمی سی کاوش نہیں رہ گئی ہے۔ نہ ہی اب اسے سیاست سے الگ تھلگ رکھ کر سمجھا جاتا ہے۔ بلکہ یہ سیاست و سفارت حتیٰ کے تجارت کا بھی ایسا آلہ ہیں۔ اس پر مستزاد یہ کہ کسی بھی ملک کی سفارتی پوزیشن کی مضبوطی کا باعث بنتے ہوئے اس مملکت کو ایک 'سافٹ پاور' کے طور پر متعارف کرانے کا ذریعہ بن رہی ہے۔ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ یہ سفارتی شعبے کا اہم جزو بن چکی ہے۔ اب اس کی مدد سے بھی مملکتیں اپنے دو طرفہ تعلقات اور مفادات کے بڑھاوے کے لیے ان کا سہارا بن گئی ہے اور اپنے مشترکہ مفادات کے لیے ایک دوسرے سے تعاون کرتی اور تعاون دیتی ہے۔
اسی چیز کو آج 'سائنس ڈپلومیسی' کہا جاتا ہے۔ حالیہ دہائیوں کے دوران اس طرز کی سفارتکاری کو زیادہ اہمیت ملی ہے۔ اگرچہ 'سائنس ڈپلومیسی' نئی چیز نہیں ہے لیکن پھر بھی زیادہ توجہ اور اہمیت انہی دہائیوں میں ملی ہے۔ آکسفورڈ یونیورسٹی نے 2020 میں ایک تحقیق شائع کی۔ جس میں 'سائنس ڈپلومیسی' کی اصطلاح کو باضابطہ طور پر زیر بحث لایا گیا۔ یوں 21ویں صدی کے شروع میں اس ٹرمینالوجی کا آغاز ہوا۔ اگرچہ 'سائنس ڈپلومیسی' کی جڑیں تاریخ میں کافی گہری ہیں۔ لیکن ماضی میں اس کو اس انداز سے یہ نام نہیں دیا جا سکا تھا۔ آکسفورڈ کی اس تحقیق میں بتایا گیا ہے 'سائنس ڈپلومیسی' بنیادی طور پر دو اہداف کی بنیاد پر تشکیل پاتی ہے۔ ایک یہ کہ ریاستوں کے مفادات میں بروئے کار آتی ہے اور دوسرا یہ کہ عالمی سطح پر پائے جانے والے ان ایشوز کو دیکھتی ہے جو سرحدوں کے آر پار موجود ہوتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اب حکومتیں سائنسدانوں کو بھی بین الاقوامی مذاکرات اور سفارتکاری میں معاونت کے لیے وفود کا حصہ بنانے لگی ہیں۔ یہاں تک کہ سفارتخانوں میں سائنسدانوں کو ان کی مہارت کے شعبے کے سلسلے میں باضابطہ اتاشی بھی مقرر کیا جانے لگا ہے۔ سفارتخانوں میں خدمات انجام دیتے ہوئے یہ خواتین و حضرات تحقیق کے شعبے میں شراکت داری اور سرمایہ کاری کے لیے مفید معلومات اور پس منظر فراہم کرتے ہیں۔
اس سلسلے میں حالیہ برسوں کے دوران چین نے ایک نئی مثال اور نیا ٹرینڈ متعارف کرایا ہے۔ چین نے سائنس و ٹیکنالوجی کو محض ایک شعبے کے طور پر نہیں دیکھا بلکہ اسے اپنی خارجہ پالیسی پر ایک اہم جزو بنا کر بروئے کار رکھا ہے۔ چین کے سرکاری ڈیٹا سے معلوم ہوا ہے کہ اس نے اب تک دوسری حکومتوں کے ساتھ 115 ایسے معاہدے کیے ہیں جو سائنس و ٹیکنالوجی کی بنیاد پر ہیں۔ ان کا مقصد دو طرفہ سائنسی مفادات کا حصول اور تعلقات کا فروغ ہے۔ چین نے 161 ملکوں کے ساتھ اپنے علاقے اور دنیا بھر میں اس میدان میں تعاون کا اہتمام کیا ہے۔ یی سارا اہتمام اور معاہدے تعلیمی پروگراموں کی شکل میں نہیں ہیں بلکہ یہ چین کی ان ملکوں کے ساتھ سیاسی و معاشی شراکت داری کے لیے ایک پل کا کام کر رہے ہیں۔ چین پچھلی کئی دہائیوں سے سائنس و ٹیکنالوجی کے شعبے میں مختلف ملکوں کی مدد کر رہا ہے۔
اس سلسلے میں ایک اہم مثال امریکہ اور کیوبا کی ہو سکتی ہے کہ جن کے باہمی تعلقات طویل عرصے سے خوشگوار نہیں ہیں اور امریکہ نے 1961 سے کیوبا کے خلاف مختلف طرح کی پابندیاں عائد کر رکھی ہیں مگر اس کے باوجود امریکہ کیوبا کو صحت کے میدان میں، بائیو ٹیکالوجی اور میٹرولوجی میں مسلسل تعاون دے رہا ہے۔ 2021 میں شائع ہونے والی ایک رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ امریکہ اور کیوبا کے سائنسدانوں کے درمیان تعاون پچھلی چار دہائیوں میں مسلسل آگے بڑھا رہا ہے۔ 2015 میں صدر اوباما کے دور صدارت میں امریکہ نے کیوبا کے ساتھ اپنے تعلقات کو نارمل کیا۔ جس کے نتیجے میں مشترکہ سائنسی تحقیقات کی اشاعت ہوئی۔ جو ماضی کے مقابلے میں سائنس کے میدان میں یہ بڑی پیش رفت تھی۔ 2020 تک کیوبا کا سائنٹیفک نیٹ ورک دنیا کے 80 فیصد ملکوں میں پھیل چکا تھا۔ جو اس امر کا اظہار ہے کہ سائنس ان شعبوں میں بھی کامیابی سے پل بننے کا کام کر رہی ہے جس میں سیاسی کوششیں کامیاب نہیں ہو پاتیں۔
عالمی برادری کو یہ بھی یاد ہونا چاہیے کہ جب مغربی ممالک موسمیاتی ایشو کو تیل پیدا کرنے والے ملکوں کے خلاف ایک ہتکھنڈے کے طور پر استعمال کرنا چاہ رہے تھے تو انہوں نے سائنس کو ہی ایک آلہ بنایا۔ کئی سال تک تیل کی کھپت کو موسمیاتی تبدیلیوں کے تناظر میں دیکھنے اور ایڈجسٹ کرنے کی کوشش رہی۔ یہاں تک کہ اس کے برعکس دلائل پیش کرنا مشکل ہو گیا۔ کچھ لوگ یہ بھی کہہ سکتے ہیں کہ بین الاقوامی رجحانات کے لیے پہلے تحقیق اور سائنس کا بیج بویا گیا۔
یہ مثالیں تصدیق کرتی ہیں کہ علم ایک بین الاقوامی اثر پذیری اور کمال تک پہنچنے کا آلہ ہے۔ ریاستیں جو اپنا ڈیٹا جمع کرتی ہیں، اپنی معلوماتی و سائنسی آرکائیو بناتی ہیں وہ ان تک دوسروں کو مفت میں پہنچنے کا موقع نہیں دیتیں۔ وہ عالمی سطح پر اپنی تعمیر و ترقی کی ایک طویل مدتی عمارت کھڑی کرنے میں لگی ہوتی ہیں۔ تعلیم اور تربیت سے متعلق ہر ملک کا ڈیٹا ایک اضافی کھڑکی کا حامل ہوتا ہے جو سمجھ بوجھ، افہام اور تجربے کو محققین کے لیے آسان بناتا ہے۔ اس طرح ایک طریقے سے یا دوسرے طریقے سے کوئی بھی علم رکھنے والا اپنے تشخص اور مہارت کا فائدہ اٹھاتا ہے اور ہر علمی کاوش اس کی 'سافٹ پاور' میں اضافے کا باعث بنتی ہے۔
ایک دہائی سے کم عرصے میں سعودی عرب نے قابل ذکر اداراتی اور قانونی اصلاحات کی ہیں۔ عالمی بنک نے بھی سعودی عرب کے اس پیش رفت پر مبنی تجربے کی تحسین کی ہے۔ اسی دوران سعودی ویژن 2030 نے اپنے 9ویں سال کے دوران اس چیز کو ظاہر کیا ہے کہ ویژن 2030 کے لیے 9 برسوں میں 900 بار قانون سازی اور قواعد کی اصلاحات کی گئیں۔ تاکہ تجارتی ماحول کو بہتر کیا جا سکے اور حکومتی کارکردگی کو آگے بڑھایا جا سکے۔
سعودی عرب نے اپنے مثالی و شاندار منصوبوں کے تحت مختلف شعبوں میں زبردست کامیابیاں حاصل کی ہیں۔ ان شعبوں میں توانائی، پیٹروکیمیکل، ماحولیات اور زراعت بطور خاص شامل ہیں۔ حتیٰ کہ پانی اور اس سے متعلق دیگر تجربات میں بھی عالمی سطح پر سعودی عرب کو پائیدار اہداف کے ساتھ دیکھا گیا۔ تاہم ابھی ان منفرد نوعیت کے تجربات کو مناسب انداز اور طریقہ کار کی فراہمی نہیں ہو سکی۔ یہ سائنسی مسودات، ٹھنک ٹینکس کی رپورٹس ابھی وسیع پیمانے پر فراہم نہیں ہیں نہ ہی ان مسودات اور رپورٹس کا علمی انداز میں مطالعے کا اہتمام ہو سکا ہے۔ لیکن یہ طے ہے کہ سعودی عرب اپنے کامیاب تجربات کی وجہ سے اپنی اس حیثیت کو اجاگر کر رہا ہے۔
علم کی 'سافٹ پاور' دنیا بھر سے سرمایہ کاری کی ترجیحات، فیصلوں اور اقدامات کو متاثر کر رہی ہے۔ کیونکہ سائنسی دستاویزات اور رپورٹس قابل اعتماد سائنسی تحقیق کی صورت میں سامنے آرہی ہیں۔ لیکن پھر بھی کچھ ممالک اپنی ان 'اچیومنٹس' کو محض پریس کانفرنسوں اور سرکاری ذرائع ابلاغ کے ذریعے اپنی سی کوشش کر کے پھیلانے کی کوشش کرتے ہیں۔ اس طرح وہ اپنے آپ کو محض اپنے خیالات کے فروغ تک محدود رکھتے ہیں جبکہ بعض ایسے ممالک میں بھی ہیں جو تحقیقی اداروں کی طرف سے شائع کردہ رپورٹس پر انحصار کرتے ہیں اور آگے بڑھنے میں کامیاب ہو جاتے ہیں۔
آج کی دنیا میں مسابقت اور دوسروں سے آگے بڑھنے کی دوڑ کا انحصار محض مالیاتی وسائل پر نہیں ہے۔ بلکہ جو ممالک اپنے شائع کردہ علوم اور قومی تجربات کو بھی علم میں منتقل کرنے کے لیے کوشاں رہتے ہیں اور کامیاب ہوتے ہیں وہ جدید ڈیٹا بیس اور عالمی سطح پر اثر رکھنے والے تھنک ٹینکس قابل اعتماد تحقیقی مراکز قائم کرنے میں کامیاب ہیں۔ اس تناظر میں یونیورسٹیاں بھی فیصلہ سازی کے مراکز تک رسائی پا رہی ہیں۔ اعداد و شمار آج کی دنیا میں ایک تزویراتی اثاثہ ہیں اور 'سائنس ڈپلومیسی' ریاستوں کے عالمی سطح پر مؤقف کو مؤثر انداز سے پیش کرنے کے لیے ایک آلہ بن گئی ہے۔