.
افغانستان وطالبان

طالبان کی پنج شیر کی جانب پیش قدمی ۔۔۔۔ احمد مسعود بھی ’لمبی جنگ‘‘ کے لیے تیار

سابقہ حکومت کے فوجی شمال میں واقع طالبان مخالف صوبہ پنج شیر میں جمع ہو رہے ہیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

افغانستان کے دارالحکومت کابل میں واقع حامد کرزئی انٹرنیشنل ائیر پورٹ پر افراتفری کے عالم میں امریکی فوج کی نگرانی میں انخلا کا بڑا آپریشن 14 اگست سے جاری ہے۔

دوسری جانب اتوار کے روز کابل سمیت ملک کے بڑے حصے کا کنٹرول سنبھالنے والی تحریک طالبان نے اپنے سیکڑوں جنگجو وادی پنج شیر کی جانب روانہ کیے ہیں، جو ان چند علاقوں میں سے ایک ہے جہاں اب تک طالبان کا کنٹرول نہیں۔

طالبان نے اپنے عربی ٹوئٹر اکاؤنٹ پر لکھا: ’پنج شیر میں مقامی حکام نے پرامن طریقے سے سبکدوش ہونے سے انکار کر دیا ہے جس کے بعد اسلامی امارات کے سیکڑوں مجاہدین کنٹرول سنبھالنے کے لیے پنج شیر کی جانب جا رہے ہیں۔‘

مختصر دورانیے کی ایک ویڈیو میں افغان حکومت سے چھینے گئے ٹرکوں کی طویل قطار کو ہائی وے پر جاتا دیکھا گیا ہے۔ ان ٹرکوں پر طالبان کا کلمے والا سفید پرچم لہرا رہا ہے، تاہم ٹرکوں پر موجود نشانیوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ گاڑیاں افغان حکومت کی ملکیت تھیں۔

خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق طالبان کے افغانستان پر کنٹرول حاصل کرنے کے بعد کچھ کچھ جگہوں پر مزاحمت ابھر رہی ہے اور سابقہ حکومت کے کچھ فوجی کابل کے شمال میں واقع صوبہ پنج شیر میں جمع ہو رہے ہیں، جو ایک عرصے سے طالبان مخالف گڑھ رہا ہے۔

طالبان مخالف گروہوں کے ترجمان کے مطابق گذشتہ ہفتے طالبان کے کابل میں کنٹرول میں آنے کے بعد ہزاروں لوگ پنج شیر آئے ہیں۔

پنج شیر میں مزاحمت کے ترجمان کے مطابق مشہور طالبان مخالف رہنما احمد شاہ مسعود کے بیٹے احمد مسعود طالبان کے خلاف مزاحمت کے لیے نو ہزار سے زائد کی فورس جمع کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

اے ایف پی کے پاس ان مزاحمت کاروں کی ٹریننگ کی تصاویر موجود ہیں جن میں کئی نئے اراکین کو ورزش کرتے اور بکتر بند گاڑیوں میں دیکھا جا سکتا ہے۔ ترجمان نے کہا کہ یہ گروہ حکومت سازی کے نئے نظام کا حامی ہے مگر ضرورت پڑنے پر لڑنے کا تیار ہے۔

ہتھیار نہیں ڈالیں گے

افغانستان میں 1980ء کے عشرے میں سوویت فوجوں کی چڑھائی کے خلاف مزاحمتی جنگ میں اہم کردار جہادی لیڈر احمدشاہ مسعود مرحوم کے بیٹے احمد مسعود نے کہا ہے کہ وادیِ پنج شیر کوطالبان کے حوالے نہیں کیا جائے گا اوراگراس انتہا پسند گروہ نے وادی پر قبضہ کرنے کی کوشش کی تو ہمارے مزاحمتی جنگجو اس کا مقابلہ کریں گے۔

دبئی سے عربی زبان میں نشریات پیش کرنے والے پین عرب نیوز چینل ’’العربیہ‘‘ سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ ماضی میں ہم نے سوویت یونین کی افواج کا مقابلہ کیا تھا اور اب ہم طالبان کا بھی مقابلہ کریں گے۔انھوں نے خبردارکیا ہے کہ اگر انتہا پسند گروہ نے بات چیت سے انکار کیا تو جنگ ’ناگزیر‘ہوگی۔

احمد مسعود نے ملک کا نظم ونسق چلانے کے لیے طالبان کی شمولیت سمیت ایک جامع اور مشمولہ حکومت تشکیل دینے کا مطالبہ کیا ہے۔

طالبان نے قبل ازیں 32 سالہ احمد مسعود کو کابل سے شمال میں واقع وادیِ پنج شیرچھوڑنے کے لیے چار گھنٹے کا الٹی میٹم دیا تھا۔ پنج شیرہی میں افغانستان کے نائب صدرامراللہ صالح روپوش ہیں۔

مگراحمد مسعود نے العربیہ سے گفتگو میں اپنے کنٹرول والے علاقوں کوطالبان کے حوالے کرنے سے انکار کردیا ہے۔ تاہم ان کا کہنا تھا کہ اگرافغانستان میں امن وسلامتی کی شرائط پوری کی جاتی ہیں تو وہ اپنے والد کو قتل کرنے پر طالبان کو معاف کرنے کو تیار ہیں۔

یاد رہے کہ ان کے والد احمد شاہ مسعود کو 11 ستمبر 2001 کو امریکا پر القاعدہ کے حملوں سے چند روز قبل ایک بم دھماکے میں قتل کرایا گیا تھا۔ تب القاعدہ کے جنگجوؤں نے ’طالبان کے افغانستان‘ میں پناہ لے رکھی تھی اور ان کے محفوظ ٹھکانے تھے۔ القاعدہ پر ہی احمد شاہ مسعود پر بم حملے میں ملوث ہونے کا الزام عاید کیا گیا تھا۔

گذشتہ ہفتے احمد مسعود نے واشنگٹن پوسٹ میں شائع شدہ ایک ادارتی تحریر میں کہا تھا کہ طالبان کی جانب سے ملک پر قبضے سے قبل افغان فوج کے ارکان ان کے ہاں مزاحمت کے لیے جمع ہوگئے تھے کیونکہ ہم جانتے تھے کہ یہ دن آ سکتا ہے۔

انھوں نے لکھا تھا:’’ہمارے پاس گولہ بارود اور اسلحہ کے ذخائرموجود ہیں۔ یہ ہتھیار ہم نے میرے والد کے دور سے اکٹھے کیے ہیں۔ اس کے علاوہ ہماری صفوں میں شامل ہونے والے فوجی بھی اپنے ساتھ ہتھیار لے کرآئے ہیں۔‘‘

ان کا کہنا تھا کہ ’’اگر طالبان جنگجو وادیِ پنج شیر پر حملہ کرتے ہیں تو یقیناً انھیں ہماری سخت مزاحمت کا سامنا کرنا پڑے گا۔‘‘