.

لبنان کو ایرانی تیل پر انحصار کرنے کی ضرورت نہیں: امریکا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکی سینیٹر رچرڈ بلومینتھل نے کل بدھ کے روز بیروت کے دورے کے دوران کہا کہ لبنان کو ایرانی ایندھن کی ترسیل پر انحصار کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔انہوں نے یہ بات بیروت میں ایک پریس کانفرنس کے دوران کہی۔

لبنان میں امریکی سفیر نے اس سے قبل لبنان کے صدر کو امریکی انتظامیہ کے فیصلے سے آگاہ کیا تھا کہ لبنان کو شام کے راستے اردن سے مصری گیس حاصل کرنے میں مدد فراہم کی جائے گی۔

اس سے قبل شام کے وزیر تیل نے عراق کے دورے کے دوران کہا تھا کہ شامی علاقوں کو مصری گیس کی لبنان کے لیے رسائی کے لیےایک رہ داری کے طور استعمال کیا جائے گا۔

قبل ازیں لبنان کی نگران حکومت میں توانائی کے وزیر ریمون غجر نےبدھ کو کہا کہ انہیں ایرانی ایندھن درآمد کرنے کی درخواست موصول نہیں ہوئی۔اس طرح بظاہر اس بات کی تصدیق ہو رہی ہے کہ "حزب اللہ" نے ایران سے ایندھن درآمد کرنے کے اقدام میں ریاست کو نظرانداز کیا ہے۔

ایرانی کھیپ کے بارے میں ایک سوال کے جواب میں وزیر پٹرولیم نے صحافیوں کو بتایا کہ ہمارا کردار درآمد کی اجازت تک محدود ہے ۔ابھی تک اس کی درخواست نہیں آئی۔ ایک اور سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ اس کا مطلب یہ ہے کہ جہاز بغیر اجازت کے آیا ہے۔غجر نے کہا کہ ہمارے پاس کوئی معلومات نہیں ہے۔ ہم سے اجازت نہیں مانگی گئی۔ میں یہی کہہ رہا ہوں۔

حزب اللہ جس کی بنیاد ایرانی پاسداران انقلاب نے 1982 میں رکھی تھی نے گذشتہ ماہ اعلان کیا تھا کہ ایرانی تیل کی ایک کھیپ لبنان جا رہی ہے تاکہ سپلائی کی شدید قلت کو دور کیا جا سکے۔ بعد میں دو دیگر تیل بردار جہاز بھیجنے کا بھی اعلان کیا تھا۔