.

افغانستان:طالبان کا11ستمبرکے حملوں کی برسی پراپنی کابینہ کی حلف برداری پرغور

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

افغانستان میں طالبان کے ایک سرکردہ لیڈر نے کہا ہے کہ وہ امریکا پرگیارہ ستمبر کے حملوں کی برسی کے موقع پر اپنی نئی کابینہ کی حلف برداری پرغورکررہے ہیں۔

ہفتے کے روزامریکا کی سرزمین پرالقاعدہ کے حملوں کی 20ویں برسی ہے۔نیویارک میں ورلڈ ٹریڈ سنٹر اورواشنگٹن کے نواح میں ورجینیا میں پینٹاگان کی عمارت پر طیارہ حملوں میں قریباً تین ہزارافراد ہلاک ہوگئے تھے۔دہشت گردی کی اس کارروائی کے ردعمل میں امریکانے القاعدہ کی بیخ کنی کے نام پراکتوبر 2001ء میں افغانستان پرفوجی چڑھائی کردی تھی۔

سی این این نیوز18 نے طالبان کے قریبی ذرائع کے حوالے سے یہ خبردی ہے کہ وہ ہفتے کے روز اپنی حکومت کی شروعات چاہتے ہیں اور اسی روز امارت اسلامی کے وزراء اپنے عہدوں کا حلف اٹھائیں گے۔

ان کا کہنا ہے کہ امریکی محکمہ خارجہ ہمارے ساتھ جس طرح کا ناروا سلوک کرتا رہاہے،اس کے بارے میں ہمیں خدشات ضرورلاحق ہیں لیکن اب ایسانہیں کہ ہم امریکا کی سُبکی چاہتےہیں بلکہ ہمارے لیے یہ ایک بڑادن ہے۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق طالبان نے عبوری کابینہ کی افتتاحی تقریب میں قطر، ایران، ترکی، روس اور چین کو مدعو کیا ہے۔

طالبان نے 15 اگست کو افغانستان پر قبضہ کرلیا تھا اور جنگ زدہ ملک سے 31 اگست کو امریکی فوجیوں اور دیگرغیرملکی فوجوں اورعہدے داروں کاانخلا مکمل ہوگیا تھا۔

طالبان نے اپنے وزیرداخلہ سراج الدین حقانی کا نام امریکا کی پابندیوں کی فہرست میں شامل ہونے پر بھی افسوس کا اظہار کیا ہے اور گروپ کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے جمعرات کو ایک بیان میں امریکا سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ سراج الدین حقانی کا نام اپنی بلیک لسٹ سے حذف کردے۔

امریکی محکمہ خارجہ کے مطابق سراج الدین حقانی نے جنوری 2008ء میں کابل میں واقع سرینا ہوٹل پر حملے کی منصوبہ بندی کا اعتراف کیا تھا۔اس میں ایک امریکی شہری سمیت چھے افراد ہلاک ہوگئے تھے۔ مارچ 2008ء میں ایگزیکٹوآرڈر 13224 کے تحت انھیں خصوصی طورپرنامزد عالمی دہشت گرد قرار دیا گیا تھا۔

امریکی محکمہ خارجہ نے سراج الدین حقانی سے متعلق معلومات فراہم کرنے پر ایک کروڑ ڈالر کا انعام مقرر کررکھا ہے۔واضح رہے کہ سراج الدین حقانی کے والد مولاناجلال الدین حقانی نے 1970ء کے عشرے کے آخر میں حقانی نیٹ ورک قائم کیا تھا۔

اس گروپ کو افغانستان میں بہت سے ہائی پروفائل حملوں کا ذمہ دارقرار دیا جاتا ہے۔اس نے ستمبر2011ء میں کابل میں امریکی سفارت خانے اوراس کے نزدیک واقع بین الاقوامی سلامتی امدادی فورس (آئی ایس اے ایف) کے ہیڈکوارٹر پرحملہ کیا تھا۔یہ حملہ 19 گھنٹے تک جاری رہا تھا۔امریکی محکمہ خارجہ نے7ستمبر2012ء کو حقانی نیٹ ورک کو غیر ملکی دہشت گرد تنظیم قراردے دیا تھا۔