.

ابوظبی:شقی القلب اماراتی نوجوان کووالد کے قتل کے جرم میں سزائے موت کا حکم

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امارت ابوظبی کے علاقے العین میں فوجداری عدالت نے ایک شقی القلب نوجوان کو اپنے والد کے بہیمانہ قتل کے جرم میں قصور وار قراردے کرسزائے موت سنائی ہے۔

عدالت نے اس مجرم کی عمر ظاہر نہیں کی ہے۔استغاثہ کے مطابق اس نے اپنے والد پرچاقو کے 36 وار کیے تھے اور پھر زخمی والد کو اسپتال لے جانے سے روکنے کے لیے اپنے سگے بھائی کی گاڑی کو نقصان پہنچایا تھا۔ملزم نے اپنی کار کو بار بار اپنے بھائی کی گاڑی سے ٹکرادیا تھا تاکہ وہ زخمی والد کو اسپتال نہ لے جاسکے۔

عدالت نے ایک بیان میں انکشاف کیا ہے کہ مجرم نشے کا عادی ہے اور وہ منشیات خرید کرنے کے لیے اپنے والد سے رقم مانگتا رہتاتھا لیکن اگرمقتول والد اس کو رقم دینے سے انکاری ہوتا تو وہ انھیں جسمانی طور پر تشدد اور بدسلوکی کا نشانہ بناتا تھا۔

اماراتی حکام نے اس سنگ دل ملزم کو اس سنگین جرم پر معافی دینے سے انکار کردیا تھا اوراس کے بعد عدالت نے اس کوسزائے موت سنا دی ہے۔عدالتی ریکارڈ کے مطابق اس مجرم کو پہلے بھی منشیات کے استعمال کے الزام میں قصور وار قرار دے کر سزا سنائی گئی تھی اوراس کو بحالی کلینک میں رکھا گیا تھا۔

قتل کا یہ واقعہ اس سال ماہِ رمضان میں پیش آیاتھا۔تاہم واقعے کی درست تاریخ ظاہر نہیں کی گئی تھی۔استغاثہ کے مطابق اس شخص نے اپنے والد کوبہلا پھسلا کر اپنے گھر کے صحن میں بلایا تھا اور ایک معاملے پر بات چیت کی تھی، مگر ان کے درمیان ہونے والی اس بات چیت کا اب تک انکشاف نہیں کیا گیا ہے۔وہیں اس نےاچانک والد پر پے درپے چاقو کے وارشروع کردیے تھے۔

اس بھائی نے اپنے کمرے کی بالکونی سے ملزم کو والد پر چاقو سے وارکرتے دیکھا تو وہ فوراً نیچے آگیا اورزخمی والد کو اپنی کارمیں بٹھا کر اسپتال لے جانے کی کوشش لگا لیکن ملزم نے اپنی گاڑی سے جلدی سے اپنے بھائی کا راستہ روک لیا اوراس کی کارسے بار بار اپنی گاڑی ٹکراتا رہا جس سے وہ چلنے کے قبل نہ رہی اور ناکارہ ہوگئی تھی۔

قتلِ عمد

العین کے فیملی پراسیکیوشن نے ملزم پر قتل عمد کا مقدمہ بنایا تھا اور اس کو فوجداری عدالت میں سماعت کے لیے بھیج دیا تھا۔ عدالت کے مطابق اس شخص نے اپنے بھائی کی کار کو جان بوجھ کراپنی گاڑی کی ٹکر سے نقصان پہنچایا تھا حالانکہ وہ اپنے زخمی والد کی کارکے اندر موجودگی سے آگاہ تھا۔اس کا مقصد والد کو باہر نکلنے سے روکنا اوراپنا جرم پورا کرناتھا۔

وکیل صفائی نے عدالت میں یہ مؤقف اختیار کیا تھا کہ ملزم سے منشیات کے استعمال کے نتیجے میں پاگل پن کی عارضی حالت کے زیراثر یہ جرم سرزد ہوا تھا جبکہ خود ملزم نے یہ بیان دیا تھا کہ اس کو جرم کے کوئی حقائق یاد نہیں ہیں مگر میڈیکل کمیٹی نے اس کے مؤقف کو مسترد کردیا تھا اور اس نے اس بات پر زور دیا تھا کہ ملزم واقعے کے وقت اپنے تمام قول وفعل کا ذمہ دار تھا۔چناں چہ عدالت نے اس کو قتل عمد کا قصور وار قراردے کر سزائے موت سنائی ہے۔