.

سرمایہ دارانہ نظام امریکی معیشت کے کام نہیں آیا: نینسی پلوسی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکی ایوانِ نمائندگان کی خاتون اسپیکر نینسی پلوسی نے سرکاری ذمے داران پر زور دیا ہے کہ وہ روایتی سرمایہ داری نظام کی بہتری کا سلسلہ جاری رکھیں۔ امریکا کے موجودہ اقتصادی نظام کے نتیجے میں عدم مساوات پھیلا ہے۔

وہ ہفتے کے روز ایک تحقیقاتی مرکز کے ساتھ ایک ورچوئل ایونٹ میں گفتگو کر رہی تھیں۔ ان کا کہنا تھا کہ "امریکا میں ہمارا اقتصادی نظام سرمایہ داری پر مبنی ہے۔ تاہم یہ معیشت کے اس طرح سے کام نہیں آیا جیسا اسے آنا چاہیے۔ ہم اس سے دور نہیں ہونا چاہتے تاہم اس کی بہتری اور اس بات کو یقینی بنانا چاہتے ہیں کہ یہ ہمارے کام آئے"۔

رواں سال جون میں خاتون اسپیکر نے ایک منتخب کمیٹی کے ارکان کا تقرر کیا تھا۔ کمیٹی کا مقصد اقتصادی اتار چڑھاؤ کا جائزہ لینا ہے۔

پلوسی نے 35 کھرب ڈالر مالیت کے بجٹ کے تصفیے سے متعلق قانونی بل کے حوالے سے ریپبلکنز اور ڈیموکریٹس کے بیچ جاری ٹکراؤ پر بھی روشنی ڈالی۔ صدر جو بائیڈن نے اس قانون کو امریکی معیشت کی تشکیل نو کی کوشش قرار دیا ہے۔

بائیڈن اور دیگر سینئر ڈیموکریٹس نے کمپنیوں اور زیادہ دولت مند امریکیوں پر ٹیکسوں کو بڑھانے پر زور دیا ہے تا کہ سماجی پروگراموں کو سپورٹ کیا جا سکے۔ البتہ ریپبلکنز اور بعض ڈیموکریٹس نے اس قانون کے بل کی مخالفت کی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اس قانون کے سبب کرونا کی وبا سے متاثرہ کمپنیوں کی اقتصادی بحالی کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔