.

حزب اللہ کی بیروت دھماکوں کے تحقیقات کرنے والے جج کو دھمکی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایرانی حمایت یافتہ لبنانی شیعہ ملیشیا حزب اللہ نے چار اگست 2020ء کو بیروت کی ایک بندرگاہ پر ہونے والے خوفناک دھماکوں کی تحقیقات کرنے والے جج جسٹس طارق البیطار کو کیس کی سماعت جاری رکھنے پرسنگین نتائج کی دھمکی دی ہے۔

لبنان کے ایک سینیر صحافی ادمن ساسین نے ٹویٹر پر ایک ٹویٹ کی جس میں اس نے لکھا کہ حزب اللہ کے جسٹس طارق بیطار کو بیروت بندرگاہ ہونے والے دھماکوں کی تحقیقات جاری رکھنے پر سنگین نتائج کی دھمکی دی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ حزب اللہ کی طرف سے جاری دھمکی آمیز بیان میں جسٹس بیطار سے کہاگیا ہے کہ اگروہ کیس کی سماعت جاری رکھتے ہیں تو انہیں اکھاڑ پھینکا جائے گا۔

ٹویٹ پر جواب میں حزب اللہ نواز ایک دوسرے صحافی نے ادمن ساسین پر تنقید کی اور جج کو دھمکی سے متعلق ان کے دعوے کو من گھڑت قرار دیا تاہم ساسین نے کہا کہ ان کے پاس اس کے ٹھوس شواہد موجود ہیں۔ حزب اللہ کے رابطہ یونٹ کے عہدیدار وفیق صفا نے جسٹس طارق بیطار کو عہدے سے برطرف کرنے دھمکی دی تھی۔

خیال رہے کہ 4ا گست 2020ء کو بیروت کی ایک بندرگاہ میں ہونے والے خوفناک دھماکوں میں 214 افراد ہلاک اور سیکڑوں زخمی ہوگئے تھے۔ دھماکہ خیز مواد ذخیرہ کرنے کی ذمہ داری حزب اللہ پرعاید کی گئی تھی۔ حزب اللہ ملیشیا اس خوفناک واقعے کی تحقیقات میں بھی اب رکاوٹیں کھڑی کرنے لگی ہے۔