.

مراکش کے سول اور فوجی طیاروں کے لیے الجزائر کی فضا بند

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

بدھ کی شام الجزائر نے پڑوسی ملک مراکش کی سول اور ملٹری ایوی ایشن کے لیے اپنی فضائی حدود فوری طور پر بند کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

یہ فیصلہ الجزائر کی سپریم سکیورٹی کونسل کے ایک اجلاس کے دوران کیا گیا جس کی سربراہی صدر عبدالمجید تبو نے کی۔ یہ کونسل مراکش کی سرحدوں پر ہونے والی پیشرفت جائزہ لینے کے لیے قائم کی گئی ہے۔

الجزائر کے ایوان صدر نے ایک بیان میں کہا ہےکہ یہ فیصلہ مراکش کی جانب سے اشتعال انگیزی اور مخالفانہ طرز عمل کا جواب ہے۔

الجزائر نے 24 اگست کو مراکش کے ساتھ سفارتی تعلقات منقطع کرنے کے اعلان کیا تھا۔دونوں پڑوسی ممالک کے مابین علاقائی مسائل ، خاص طور پر مغربی صحارا کے مسئلے پر متضاد موقف پایا جاتا ہے۔ مراکش مغربی صحارا کو اپنا علاقہ قرار دیتا ہے جو کئی دہائیوں سے دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی کی ایک بڑی وجہ بتائی جاتی ہے۔ دونوں ممالک کے درمیان 1994 سے سرحد بند ہے۔

19 اگست کو الجزائرنے اعلان کیا کہ وہ مراکش کے ساتھ اپنے تعلقات کا دوبارہ جائزہ لے گا۔ الجزائر نے مراکش پر معاندانہ سرگرمیں میں ملوث ہونے کا الزام عاید کیا۔

معذرت اور انکار

دوسری طرف مراکش کی وزارت خارجہ نے الجزائر کے فیصلے پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے اسے "بلاجواز" قرار دیا۔ مراکش نےالجزائر کی طرف سے اختیار کردہ موقف کو بے معنی قرار دیتے ہوئے کہا کہ الجزائر کی طرف سے تعلقات توڑنے کے لیے جو وجہ بیان کی ہے وہ درست نہیں۔ بیان میں اس بات پر زور دیا کہ مراکش الجزائر کے عوام کا قابل اعتماد اور وفادار شراکت دار رہے گا اور مضبوط اور تعمیری تعلقات استوار کرنے کے لیے حکمت اور ذمہ داری کے ساتھ کام کرتا رہے گا۔