.
افغانستان وطالبان

افغانستان: طالبان نے ہرات شہرمیں چاراغواکاروں کی لاشیں کرین سے لٹکا دیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

افغانستان کے مغربی شہر ہرات میں طالبان نے ہفتے کے روز فائرنگ کے ایک واقعے میں چاراغوا کاروں کوہلاک کردیا اور پھر ان کی لاشیں شہر کے ایک چوک میں کرین سے لٹکا دی ہیں۔

صوبہ ہرات کے نائب گورنرمولوی شیراحمد مہاجر نے کہا ہے کہ ’’ان افراد کی لاشوں کو مختلف عوامی مقامات میں لٹکایا گیا ہے،ان کے قتل سے یہ ’’سبق‘‘ دینا مقصود ہے کہ شہر میں اغوا کی وارداتوں کو برداشت نہیں کیا جائے گا۔‘‘

سوشل میڈیا پر پوسٹ کی گئی گرافک تصاویرمیں ایک پک اپ ٹرک میں خون آلود لاشیں دکھائی دے رہی تھیں جبکہ ایک کرین کے ذریعے ایک لاش کو لٹکایا گیا تھا۔لوگوں کا ہجوم بھی وہاں موجود تھے اورمسلح طالبان جنگجو اس گاڑی کے ارد گرد جمع تھے۔

ایک اورویڈیو میں دکھایا گیا ہے کہ ہرات کے ایک بڑے گول چکر پر کرین سے معلق ایک شخص کے سینے پر آویزاں ایک عبارت نظرآرہی تھی۔اس پر یہ لکھا تھا:’’اغوا کاروں کو اس طرح سزا دی جائے گی۔‘‘

گذشتہ ماہ طالبان نے اقتدار میں آنے کے بعد ہرات شہر کے چوکوں میں اس طرح پہلی مرتبہ مجرموں کی لاشوں کی اس طرح نمائش کی ہے اور یہ اس بات کی علامت ہے کہ وہ 1996 سے 2001 ء تک اپنے پہلے دور حکومت کی طرح سخت سزاؤں پر عمل درآمد کرسکتے ہیں۔

نائب گورنرمہاجر نے بتایا کہ سیکورٹی فورسز کواطلاع دی گئی تھی کہ ہفتے کی صبح شہر میں ایک تاجر اوراس کے بیٹے کو اغوا کرلیا گیا تھا۔اس کے بعد پولیس نے شہر سے باہر سڑکیں بند کر دیں اور طالبان نے ان افراد کو ایک چیک پوسٹ پر روک لیا جہاں ’فائرنگ کا تبادلہ‘ہوا ہے۔

مہاجر نے اے ایف پی کو بھیجے گئے ایک ریکارڈ بیان میں کہا کہ چند منٹ کی لڑائی کے نتیجے میں ہمارا ایک مجاہد زخمی ہو گیا اور چاروں اغواکار ہلاک ہو گئے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ’’ہم اسلامی امارت ہیں۔ کسی کو بھی اپنی قوم کو نقصان پہنچانے کی اجازت نہیں دیں گے۔انھوں نے مزید کہا کہ ہم کسی کو بھی کسی شہری کواغوا کرنے یا یرغمال بنانے کی اجازت نہیں دیں گے۔‘‘

انھوں نے مزید بتایا کہ اس واقعے سے قبل بھی شہر میں اغوا کے واقعات رونماہوئے تھے اور طالبان نے ایک لڑکے کومغویوں کے چنگل سے بچا لیا تھا۔اس واقعے میں ایک اغوا کار ہلاک اور تین دیگر کو گرفتارکرلیا گیاتھا۔

انھوں نے اعتراف کیا کہ ایک اور واقعے میں طالبان یرغمالیوں کو بچانے میں ناکام رہے تھے اوراغواکاران سے تاوان کی رقم وصولنے میں کامیاب ہوگئے تھے لیکن مہاجر کے بہ قول اس واقعے سے ہمیں بہت دکھ پہنچا کیونکہ ہماری ہرات میں لوگوں کو لوگوں کواغوا کیا گیا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ’’دوسرے اغوا کاروں کو سبق سکھانے کے لیے کہ وہ کسی کواغوا یا ہراساں نہ کریں، ہم نے ان مجرموں کوشہر کے چوکوں میں لٹکا دیا اور ہرایک پر یہ واضح کر دیا کہ جو کوئی بھی ہمارے لوگوں کی چوری کرے گا،انھیں اغوا کرے گا یا ان کے خلاف کوئی اور کارروائی کرے گا تواسے سخت سزادی جائے گی۔‘‘