.

ترکی میں 7 فلسطینی پُراسرار طورپر لاپتا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ترکی میں ایک خاتون سمیت کم سے کم 7 فلسطینی ایک ماہ کے اندرپراسرار طور پر ترکی میں لاپتہ ہو گئے ہیں۔ ان کے اہل خانہ کی اپیلوں اور فلسطینی حکام کی جانب سے اس معاملے کی پیروی کے باوجود ان کا سراغ نہیں لگایا جاسکا ہے۔

میڈیا میں آنے والی تفصیلات میں بتایا گیا ہے کہ ترکی میں فلسطینی کمیونٹی کے دو افراد نے انکشاف کیا کہ آغاز میں ایک ماہ قبل 4 فلسطینی استنبول شہر میں اچانک لاپتہ ہوگئے تھے۔ کچھ دن بعد ایک اور کیس میں قونیا شہر سے ایک فلسطینی غائب ہوا۔ دو فلسطینی یونان۔ ترکی سرحد کے قریب جب کہ ایک خاتون چند روز قبل استنبول سے لاپتا ہوئی ہے۔

ترکی میں فلسطینیوں کی گمشدگی

دونوں ذرائع نے مزید بتایا کہ لاپتہ ہونے والے غزہ کی پٹی کے الشاطی پناہ گزین کیمپ سے تعلق رکھنے والے احمد القیشاوی شامل ہیں جو گذشتہ 25 ستمبر کو اسٹروٹ کے علاقے میں غائب ہوا۔ عبدالرحمن ابو نواح الخلیل سے تعلق رکھتے ہیں۔ وہ بھی 25 ستمبر سے استنبول کے علاقے بیلیک میں غائب ہے۔

غزہ سے تعلق رکھنے والےایک فلسطینی جس کی شناخت ناہض الکفارنہ کےنام سے کی گئی ہے جو 13 ستمبر کو اسٹروٹ سے لاپتا ہے۔ جب کہ مہا الشاعر نامی ایک خاتون جو تین بچوں کی ماں ہے پچیس ستمبر سے غائب ہے۔

غزہ سے تعلق رکھنے والے سامی الیازجی کو ترکی یونان کی سرحد کے قریب سے غائب کیا گیا۔ غزہ میں خان یونس کے سلیمان ابو غبن اور جینین کے برقین شہر سے تعلق رکھنے والے علاء الدین حمادہ جو پنکیٹ یونیورسٹی کا ایک طالب علم ہے 21 ستمبر استنبول سے لاپتا ہے۔ الخلیل کے محمد سلھب التمیمی سلجون یونیورسٹی کا ایک طالب علم ہے لاپتا ہونے والے افراد میں شامل ہے۔

لاپتہ افراد کی تلاش

دریں اثنا لاپتہ افراد کے اہل خانہ اور دوستوں نے ترکی میں فلسطینی سفیر اور تمام انسانی حقوق کے اداروں سے رابطہ کیا ہے۔ انہوں نے اپنے بچوں کی تلاش اور ترک حکام کے ساتھ بات چیت کے لیے وکیل مقرر کیے ہیں تاہم ترک حکام ان فلسطینیوں کے بارے میں لاعلمی کا اظہار کررہے ہیں۔

ترکی میں فلسطینی سفارت خانے نے کہا ہے کہ اس نے اس معاملے کی انکوائری کے لیے ایک کرائسز سیل تشکیل دیا ہے۔ فلسطینی سفارت خانے کی طرف سے لاپتا ہونے والے فلسطینیوں کے بارے میں معلومات کے لیے ریاستی ایجنسیوں سے بھی رابط کیا گیا ہے۔

دوسری جانب ترکی میں مقیم ایک فلسطینی شہری نے انکشاف کیا ہے کہ لاپتہ افراد میں سے ایک فلسطینی سکولوں میں بطور استاد کام کرتا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ لاپتا افراد کو ترک سیکیورٹی کے زیر حراست رکھنے کا امکان ہے ، کیونکہ اس سے پہلے بھی اسی طرح کے واقعات پیش آچکے ہیں۔ دو فلسطینی تاجر برسوں پہلے لاپتہ ہو گئے تھے۔ انہیں پچیس سال بعد بازیاب کرایا گیا۔ وہ ترکی کے سیکیورٹی اداروں کی حراست میں تھے اور ان پر انقرہ مخالف ایک سیاسی گروپ سے تعلق کا الزام عاید کیا گیا تھا۔