.

امریکا، برطانیہ، سعودی عرب اوریواے ای کا سوڈان کی سول حکومت کی فوری بحالی کا مطالبہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکا ، سعودی عرب، برطانیہ اور متحدہ عرب امارات نے ایک مشترکہ بیان میں سوڈان کی سویلین قیادت والی حکومت کی فوری بحالی کا مطالبہ کیا ہے۔

بدھ کو جاری کردہ مشترکہ بیان میں کہا گیا ہے کہ سعودی عرب، یواے ای، امریکااوربرطانیہ سوڈان کے عوام کے ساتھ اپنے ممالک کے مؤقف کا اعادہ کرتے ہیں اور ایک جمہوری اور پرامن سوڈان کے لیے ان کی خواہشات کی حمایت کی اہمیت پرزور دیتے ہیں۔

سوڈان کے لیے تشکیل کردہ اس گروپ چارنے اپنے اس مطالبے کا اعادہ کیا ہے کہ اس ملک کی سویلین قیادت کی بالادستی والی عبوری حکومت اور اداروں کومکمل اور فوری طور پربحال کیا جائے۔

چاروں ممالک نے کہا کہ وہ سوڈان کےعوام کو انتقال اقتدار اور انتقال جمہوریت کا عمل آگے بڑھانے میں مدد دینے کے لیے پرعزم ہیں۔انھوں نے ملک کی صورت حال پراپنی ’’سنگین تشویش‘‘کا اظہار کیا۔

انھوں نے سوڈانی فوج سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ حراست میں لیے گئے تمام افراد کو رہا کرے اور ملک میں نافذ ہنگامی حالت کا خاتمہ کرے۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ ’’نئے سوڈان میں تشدد کی کوئی گنجائش نہیں ،اس نکتے پر ہم ملک کے تمام فریقوں کے درمیان مؤثربات چیت کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں اور ہم تمام فریقوں پریہ زور دیتے ہیں کہ وہ اس بات کو یقینی بنائیں کہ سوڈان کے عوام کا امن وسلامتی ان کی اوّلین ترجیح ہو۔‘‘

قبل ازیں منگل کے روز امریکاکے سینیرعہدہ دار جیفری فیلٹمین نے کہا تھا کہ ’’سوڈان کے اعلیٰ فوجی جنرل عبدالفتاح البرہان نے پرامن اور جمہوری ملک کے لیے سوڈانی عوام کی اُمنگوں کا استحصال کیا اور انھیں دھوکا دیا ہے۔‘‘

سوڈان کی عبوری حکمراں کونسل کے سربراہ جنرل عبدالفتاح البرہان نے گذشتہ ہفتے اقتدار پرمکمل قبضہ کر لیا تھااور وزیراعظم عبداللہ حمدوک اور دیگر سرکاری عہدے داروں کو نظربند کردیا تھا۔بعد میں انھوں نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا تھا کہ وہ عبداللہ حمدوک کی حفاظت کررہے ہیں اور اگر وہ عبوری حکومت کو چلتا نہیں کرتے تو ملک خانہ جنگی کا شکار ہوجاتا۔

دریں اثناء امریکی اخباروال اسٹریٹ جرنل نے خبردی ہے کہ جنرل البرہان نے ہارن آف افریقا کے لیے امریکا کے خصوصی ایلچی جیفری فیلٹمین سے ملاقات کی ہے اور اس کے چندگھنٹے کے بعد وہ مصر گئے تھے ،جہاں انھوں نے کہا کہ وہ اقتدار کی منتقلی کے لیے پرعزم ہیں۔

جرنل نے لکھا ہے کہ اس ملاقات سے قبل مصرکی انٹیلی جنس کے سربراہ عباس کامل جنرل البرہان سے ملاقات کے لیے خرطوم گئے تھے لیکن انھوں نے معزول عبوری وزیراعظم عبداللہ حمدوک سے ملاقات سے گریزکیا ہے۔

العربیہ آزادانہ طور پروال اسٹریٹ جرنل کی اس رپورٹ کی تصدیق نہیں کرسکا۔عبداللہ حمدوک ، ان کی کابینہ میں شامل بعض وزراء اور بہت سے دوسرے جمہوریت پسند افراد اس وقت دارالحکومت خرطوم یا دوسرے شہروں میں حکام کے زیرحراست ہیں یا نظربند ہیں۔