.

سوڈان:سرکاری کمپنیوں اور قومی زرعی منصوبوں کے تمام بورڈ آف ڈائریکٹرز تحلیل

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سوڈانی ٹی وی نے جمعہ کو رپورٹ کی ہے کہ مسلح افواج کے کمانڈر انچیف لیفٹیننٹ جنرل عبدالفتاح البرہان نے سرکاری کمپنیوں اور قومی زرعی منصوبوں کے تمام بورڈ آف ڈائریکٹرز کو تحلیل کرنے کا فیصلہ جاری کیا ہے۔ سوڈان کے سرکاری ٹی وی پر نشر اس خبر کی مزید تفصیلات نہیں بتائی گئیں۔

ایک اور پیشرفت میں فرانسیسی وزارت خارجہ نے جمعہ کے روز کہا ہے کہ سوڈان میں ہونے والے واقعات پیرس کلب کے طریقہ کارکو خطرے میں ڈال رہے ہیں جو امیر ممالک کو سوڈان کا قرض ادا کرنے کی اجازت دیتا ہے۔

وزارت خارجہ نے ایک بیان میں کہا کہ پیرس کلب کے فریم ورک کے اندر ایک معاہدہ 15 جولائی کو طے پایا تھا جس کے مطابق ہر قرض دہندہ کو سوڈان کے ساتھ دو طرفہ معاہدے پر دستخط کرنا ہوں گے۔

انہوں نے مزید کہا پیرس کی جانب سے سوڈان پر واجب الادا 5 ارب ڈالر کے قرض کو منسوخ کرنے کے پانچ ماہ بعد یہ واضح ہے کہ 25 اکتوبر کو ہونے والے حالیہ واقعات اس طریقہ کار کو خطرے میں ڈال رہے ہیں۔

ایک اور پیش رفت میں سوڈان میں اقوام متحدہ کے مشن نے حکام پر زور دیا کہ وہ 25 اکتوبر اور اس کے بعد گرفتار کیےگئے تمام قیدیوں کو فوری طور پر رہا کریں۔

اقوام متحدہ کے مشن نے جمعرات کو اقوام متحدہ کے نمائندے سے ملاقات کے بعد آزادی اور تبدیلی کی فورسز کی مرکزی کونسل کے ارکان کی گرفتاری کی مذمت کی۔

مشن نے کہا کہ یہ گرفتاریاں سوڈان میں استحکام کی بحالی کی کوششوں میں رکاوٹ ہیں اور جمعرات کو چار وزراء کی رہائی سے کوئی خاص اثرنہیں پڑے گا۔ فوجی حکومت کو گرفتار کیے گئے تمام افراد کو رہا کرنا ہوگا۔

مشن نے فوجی قیادت سے سیاستدانوں اور کارکنوں کو حراست میں لینا بند کرنے اور انسانی حقوق کی مزید خلاف ورزیوں کو روکنے کا مطالبہ کیا۔

سوڈان کے لیے اقوام متحدہ کے ایلچی فوکر پیرٹس کا کہنا ہے کہ سوڈانی فریقوں کے بیچ معاہدے کے لیے پیش کردہ تجاویز میں وزیر اعظم عبداللہ حمدوک کی واپسی، گرفتار شدگان کی رہائی، ٹیکنوکریٹس کی حکومت کی تشکیل، آئین میں ترامیم کیا جانا اور ایمرجنسی ختم کرنا شامل ہے۔

جمعرات کے روز اپنے بیان میں پیرٹس نے زور دیا کہ سوڈان میں بحران کے خاتمے کے لیے چند روز کے اندر ایک معاہدے تک پہنچنا ضروری ہے۔

ادھر سوڈانی سرکاری ٹیلی وژن نے بتایا ہے کہ سوڈان کی فوج کے سربراہ جنرل عبدالفتاح البرہان نے سابقہ حکومت کے 4 وزراء کی رہائی کا فیصلہ کیا ہے۔ ان میں وزیر مواصلات ہاشم حسب الرسول، وزیر ثقافت و اطلاعات حمزہ بلول، وزیر تجارت علی جدو اور نوجوانوں اور کھیلوں کے وزیر یوسف آدم شامل ہیں۔

العربیہ اور الحدث نیوز چینلوں کے ذرائع نے بتایا ہے کہ آئندہ 24 گھنٹوں کے دوران میں خود مختار کونسل کا اعلان کیا جائے گا۔ کونسل 14 نشستوں پر مشتمل ہو گی جن میں 5 عسکری اور 6 شہری نمائندوں کے علاوہ آرمڈ اسٹرگل موومنٹ کے 3 نمائندے ہوں گے۔

اس سے قبل خرطوم میں موجود جنوبی سوڈان کے ثالثی وفد کے سربراہ توت قلواک نے انکشاف کیا تھا کہ سوڈان میں بحران کے فریقوں کے بیچ سمجھوتا طے پا گیا ہے۔ قلواک کے مطابق سوڈانی فوج کے سربراہ جنرل عبدالفتاح البرہان بعض گرفتار شدگان کی رہائی پر آمادہ ہو گئے ہیں جب کہ بقیہ افراد کو بعد میں آزاد کیا جائے گا۔

العربیہ اور الحدث کو دیے گئے خصوصی بیان میں قلواک نے کہا کہ یہ اقدام امن و استحکام کو یقینی بنانے میں مدد گار ثابت ہو گا۔

دوسری جانب اقوام متحدہ کے سکریٹری جنرل انتونیو گوٹیرس نے عبدالفتاح البرہان سے ٹیلی فون پر رابطہ کیا۔ دونوں شخصیات کے بیچ سوڈان کی صورت حال زیر بحث آئی۔ انہوں نے ملک میں اقتدار کی جمہوری طور سے منتقلی اور شہری حکومت کی جلد تشکیل کی ضرورت کو باور کرایا۔

باخبر ذرائع نے العربیہ اور الحدث کو بتایا کہ سعودی سفیر علی بن حسن جعفر نے معزول سوڈانی وزیر اعظم عبداللہ حمدوک سے ملاقات کی۔ دونوں شخصیات کے درمیان حالیہ بحران اور اس سے نکلنے کے راستوں پر بات چیت ہوئی۔ سعودی سفیر نے باور کرایا کہ ان کا ملک سوڈان کے استحکام، وحدت اور ترقی کا خواہاں ہے۔