ترکی میں ایک معروف دفاعی تجزیہ کار اور حزب اختلاف کی جماعت جمہوریت اور ترقی پارٹی (دیوا) کے بانی متین گورچن کو’’سیاسی اور فوجی جاسوسی‘‘ کے الزام میں جیل میں ڈال دیا گیا ہے۔
گورچن ترک فوج کے سابق رکن ہیں۔انھوں نے سابق نائب وزیراعظم علی باباجان کے ساتھ مل کر دیوا کی بنیاد رکھی تھی۔علی باباجان صدر رجب طیب ایردوآن کے زیرقیادت انصاف اور ترقی پارٹی(آق) سے تعلق رکھتے تھے لیکن وہ صدرسے اختلاف کے بعدحکومتی عہدے اور جماعت دونوں سے مستعفی ہوگئے تھے۔
ترک پولیس نے متین گورچن کو جمعہ کو گرفتار کیا تھا۔انھوں نے گذشتہ ہفتے ایک ٹویٹ میں کہا تھا کہ ’’مجھے ’’سیاسی جاسوسی‘‘ کے الزامات پر حراست میں لیا جارہا ہے۔پولیس گھر پرموجودہے۔وہ اس کی تلاشی لے رہے ہیں۔میں صدمے میں ہوں اور مجھے آپ کی مدد کی ضرورت ہے۔‘‘
ترکی کے نجی ٹی وی چینل این ٹی وی کے مطابق گورچن کو سوموار کو جیل میں منتقل کردیا گیا ہے۔
علی باباجان نے خبرترک ٹیلی ویژن سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ’’ جہاں تک ہم جانتے ہیں،متین (گورچن) کو ریاست کی کسی خفیہ دستاویزتک رسائی نہیں ہے کیونکہ وہ ریاست کے لیے تو کام نہیں کرتے ہیں۔‘‘
گورچن نے حال ہی میں صدرایردوآن کی حکومت پرمتحدہ عرب امارات کے ساتھ دوطرفہ سرمایہ کاری کے فروغ کے لیے سمجھوتے کرنے پرتنقید کی ہے۔انھوں نے یہ دلیل پیش کی ہے کہ یواے ای کی جانب سے سرمایہ کاری کے وعدوں کے ردعمل میں ترکی کو رعایتیں دیناپڑیں گی۔
واضح رہے کہ گذشتہ بدھ کوابوظبی کے ولی عہدشیخ محمد بن زاید آل نہیان کے انقرہ کے دورے کے موقع یوای اے نے ترکی میں سرمایہ کاری کے لیے دس ارب ڈالر کے ایک فنڈ کے قیام کا اعلان کیا تھا۔اس فنڈ کے ذریعے ترکی میں مختلف شعبوں میں سرمایہ کاری کی جائے گی۔