یمن میں آئینی حکوم کی حمایت کرنے والے عرب اتحاد کی طرف سے اتوار کو دکھائی جانے والے ایک ویڈیو کلپ میں یمن میں لبنانی حزب اللہ ملیشیا کے تربیت کاروں کے ہیڈ کوارٹر کو حوثی ملیشیا کے تربیت یافتہ افراد کے ساتھ دکھایا گیا ہے۔
اس کلپ میں صنعاء کے بین الاقوامی ہوائی اڈے پر ڈرون بھی دکھائے گئے۔
یمنی بحران پر ایک جامع بریفنگ میں عرب اتحاد نے اپنے ترجمان بریگیڈیئر جنرل ترکی المالکی کے ذریعے یمن میں لبنانی دہشت گرد حزب اللہ کے ملوث ہونے اور سعودی عرب کو نشانہ بنانے کے لیے ہوائی اڈے کے استعمال کے شواہد کا انکشاف کیا۔
شاهد.. مقر مدربي ميليشيا حزب الله اللبناني في #اليمن، مع المتدربين من العناصر الحوثية، ومخازن الطائرات المسيرة في مطار #صنعاء الدولي pic.twitter.com/OgV1JKqrDt
— العربية السعودية (@AlArabiya_KSA) December 26, 2021
اتحاد نے حزب اللہ کے جنگجوؤں کی حوثی ملیشیا کو ڈرون حملوں کی تربیت کی تصاویر دکھائیں۔
المالکی نے زور دے کر کہا کہ "حزب اللہ کی دہشت گرد تنظیم نے خطے اور دنیا میں تباہی پھیلا رکھی ہے اور یہ سعودی عرب اور یمن میں عام شہریوں کو نشانہ بنانے کی ذمہ دار ہے۔"
المالکی نے اس بات پر زور دیا کہ ایرانی حکومت خطے میں اسلحے کی سرپرستی کرتی ہے اور تباہی و بربادی کر رہی ہے۔حوثی ملیشیا نے ایران سے فرقہ وارانہ نظریہ اپنایا ہے۔
المالکی نے عراق، شام اور لبنان میں فرقہ وارانہ نظریات کو ہوا دینے میں تہران کے کردار کے بارے میں بھی بات کی۔