.
کرونا وائرس

بیجنگ میں اومیکرون قسم کے پہلے کیس کی تشخیص،سخت قدغنوں کا دوبارہ نفاذ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

چین کے دارالحکومت بینجنگ میں حکام نے ہفتے کے روز کرونا وائرس کی اومیکرون قسم کے پہلے کیس کی تشخیص کی اطلاع دی ہے جبکہ ملک سرمائی اولمپکس سے قبل اس انتہائی متعدی شکل کو پھیلنے سے روکنے کے لیے سخت اقدامات کررہا ہے۔

یہ اعلان جنوبی شہر ژوہائی میں مکینوں پر سفری پابندیاں عاید کرنے کے ایک روزبعد کیا گیا ہے۔وہاں بڑے پیمانے پر جانچ مہم کے نتیجے میں سات کیسوں کی تشخیص ہوئی ہے۔

حالیہ ہفتوں میں چین بھر میں لاکھوں افراد کو گھروں ہی میں رہنے کا حکم دیا گیا ہے، اگلے ماہ بیجنگ میں ہونے والے سرمائی اولمپکس سے قبل ملک میں کروناوائرس کی وبا بہ شمول اومیکرون کے پھیلاؤ پرقابو پانے کی کوشش کی جارہی ہے اور بعض علاقوں میں اندرون ملک پروازیں معطل کردی گئی ہیں۔

بیجنگ کے عہدے دارپانگ ژنگہوو نے ایک پریس کانفرنس میں کہا کہ دارالحکومت کے علاقے ہیڈیان میں اومیکرون کےکیس کا پتا چلا ہے اور یہ مقامی طور پر منتقل ہوا ہے۔ پانگ نے بتایا کہ حکام مریض کے اقامتی احاطے اور دفتر کی عمارت میں رہنے والے دیگرافراد کی جانچ کررہے ہیں اور متاثرہ شخص سے منسلک 17 مقامات تک رسائی محدود کر دی گئی ہے۔

یجنگ نے طویل عرصے سے ملک کے ان حصوں سے لوگوں کے داخلے پر پابندی عاید کررکھی ہے جہاں کرونا وائرس کے کیس رپورٹ ہوئے ہیں جبکہ تمام آنے والے افراد کو کووِڈ-19 کا حالیہ منفی ٹیسٹ فراہم کرنے کی ضرورت ہے۔حالیہ ہفتوں میں رہائشیوں پر بھی زور دیا گیا ہے کہ وہ آیندہ موسم بہار کے تیوہار کی چھٹی کے لیے شہر سے باہر نہ جائیں۔

جمعہ کے روز جوئے کے مرکز مکاؤ کی سرحد سے متصل ساحلی شہ زوہائی نے بتایا کہ ایک ہلکے بیمارشخص اور چھے علامتی مریضوں میں اومیکرون کا پتا چلا ہے۔ژوہائی کے حکام نے مکینوں سے کہا ہے کہ وہ ’’جب تک ناگزیرنہ ہو،شہر چھوڑنے سے گریز کریں‘‘۔

اسی ہفتے کے اوائل میں پڑوسی شہر ژونگشان میں کووِڈ کے ایک کیس کا پتا چلنے کے بعد جمعہ کو 24 لاکھ افراد کی آبادی کے لیے بڑے پیمانے پرٹیسٹوں کا آغاز کیا گیا تھا۔شہر میں بیوٹی سیلون، جِم اور سینما گھروں سمیت کاروبار جمعرات کو بند کرنے کا حکم دیا گیا تھا۔حکام نے شہر کے کچھ حصوں میں عوامی بس کے روٹس بھی معطل کردیے تھے۔

چین کے چھوٹے شہروں میں سخت لاک ڈاؤن نافذ کر دیا گیا ہے جہاں لاکھوں لوگوں کو گھر میں رہنے اورٹیسٹ کروانے کا حکم دیا گیا ہے جبکہ شنگھائی اور بیجنگ جیسے اقتصادی مراکز میں صرف مخصوص محلوں میں لاک ڈاؤن نافذ کیا گیا ہےاورشہریوں پر ٹیسٹ کرانے کی پابندی عاید کی گئی ہے۔

چین کے قومی صحت کمیشن کے ترجمان مائی فینگ نے ہفتے کے روز صحافیوں کو بتایا کہ ملک کووائرس کی دونوں متعدی قسموں ڈیلٹا اوراومیکرون کے ’’چیلنج‘‘کا سامنا ہے۔انھوں نے خبردارکیا کہ جو علاقے ابھی تک وبا کی زد میں نہیں آئے ہیں،انھیں اپنے روک تھام کے اقدامات میں ’’نرمی‘‘ نہیں کرنی چاہیے اورچوکنا رہنے کا سلسلہ برقرار رکھنا چاہیے۔چین میں ملکی سطح پر منتقل ہونے والےکووڈ-19 کے 104 کیس رپورٹ ہوئے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں