یواے ای کاامریکا سے حوثی ملیشیا کودوبارہ دہشت گرد تنظیم قراردینےکامطالبہ

ابوظبی پرحوثیوں کے ڈرون حملے کے بعدامریکا اوریواے ای کا فضائی دفاعی نظام کو مضبوط بنانے پرتبادلہ خیال

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

متحدہ عرب امارات نے امریکا کی بائیڈن انتظامیہ سے ایران کی حمایت یافتہ یمن کی حوثی ملیشیا کو دوبارہ دہشت گرد تنظیم قراردینے کا مطالبہ کیا ہے۔

واشنگٹن میں متعیّن متحدہ عرب امارات کے سفیریوسف العتیبہ نے وائٹ ہاؤس اورامریکی قانون سازوں سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ یمن کی حوثی ملیشیا کو دوبارہ دہشت گرد تنظیم قرار دینے کے فیصلے کی حمایت کریں۔

العتیبہ نے ایک ٹویٹ میں کہا ہے کہ واشنگٹن میں یواے ای کے نیشنل انٹیلی جنس کے ڈائریکٹرعلی الشمسی وائٹ ہاؤس اور کانگریس کے عہدے داروں سے اس ضمن میں ملاقاتیں کرنے والے ہیں اور وہ بھی اس بات چیت میں ان کے ساتھ شریک ہوں گے۔

اماراتی سفیر نے امریکی وزیردفاع لائیڈ آسٹن کی بدھ کے روز ابوظبی کے ولی عہد شیخ محمد بن زاید آل نہیان سے ٹیلی فون پربات چیت کی بھی اطلاع دی ہے۔انھوں نے متحدہ عرب امارات کے دارالحکومت ابوظبی پریمن کی حوثی ملیشیا کے حالیہ ڈرون حملوں سے پیدا ہونے والی صورت حال پرتبادلہ خیال کیا ہے۔

یواے ای کے سرکاری خبررساں ادارے وام کی رپورٹ کے مطابق دونوں اعلیٰ عہدے داروں نے حوثی ملیشیا کے ابوظبی پردہشت گردانہ حملے کے بعد میزائلوں اور ڈرونز کے خلاف فضائی دفاعی نظام کومضبوط بنانے کی ضرورت سے اتفاق کیا ہے۔

ابوظبی میں پیر کے روز ڈرون حملوں کے نتیجے میں دومقامات پر آگ بھڑک اٹھی تھی اورآتش زدگی کے بعد پیٹرولیم کے تین ٹینکروں میں دھماکے ہوئے تھے۔اس واقعے میں ایک پاکستانی سمیت تین افراد ہلاک اورچھے زخمی ہوگئے تھے۔

حوثی ملیشیا نے اس حملے کی ذمے داری قبول کرتے ہوئے کہاکہ اس نے یواے ای میں ’’گہری کارروائی‘‘ کی ہے۔اس حملے کے بعد اسرائیل نے بھی متحدہ عرب امارات کو’’سکیورٹی اور انٹیلی جنس‘‘کے شعبے میں معاونت کی پیش کش کی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں