افغانستان وطالبان

اقوام متحدہ کا طالبان سے لاپتاصحافیوں کے بارے میں معلومات فراہم کرنے کا مطالبہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

افغانستان میں اقوام متحدہ کے مشن نے طالبان انتظامیہ سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ سوموار کولاپتا ہونے والے دو افغان صحافیوں کی حراست سے متعلق تفصیل جاری کرے۔

طالبان انتظامیہ کے ترجمان بلال کریمی نے کہا ہے کہ ان افراد کے اغوا کی تحقیقات کی جارہی ہے۔انھوں نے اس بات کی تردید کی ہے کہ انھیں گرفتارکر لیا گیا ہے۔

افغانستان میں اقوام متحدہ کے امدادی مشن (یو این اے ایم اے) نے ایک ٹویٹ میں کہا کہ’’صحافیوں اورافغانوں کے حقوق کا احترام کیا جائے۔ذرائع ابلاغ پر پابندیوں اور آزادانہ اظہاررائے کے بارے میں بڑھتی ہوئی تشویش دور کی جائے اور طالبان یہ بات عام کریں کہ انھوں نے ان صحافیوں کو کیوں حراست میں لیا ہے‘‘۔

مقامی نشریاتی ادارے آریانا نیوزکے نیوزمنیجرعلی اصغری نے بتایا کہ پیر کی سہ پہراس کے دو صحافیوں کو اٹھا لیا گیا ہے۔تاہم اغوا کاروں کی شناخت واضح نہیں ہو سکی۔

گذشتہ سال اگست میں غیرملکی افواج کے انخلا کے بعد سے انسانی حقوق کے لیے آوازاٹھانے والی ممتازخواتین اورطالبان مخالفین کے تحفظ سے متعلق خدشات بڑھ گئے ہیں جبکہ سول سوسائٹی اورخواتین کے حقوق کے علمبردار بہت سے کارکنان ملک سے راہ فراراختیار کرگئے ہیں۔

دریں اثناء جنیوا میں اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کی ترجمان نے ایک بریفنگ میں گذشتہ ماہ افغانستان میں خواتین کے حقوق کے مظاہروں میں حصہ لینے والے چھےافراد کی گمشدگی پرتشویش کا اظہار کیا ہے۔

اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کی ترجمان روینا شمدسان نے کہا کہ ہمیں ان کی فلاح و بہبود اور تحفظ پر شدید تشویش ہے۔ان کے علاوہ دیگرکارکنوں کے گھروں کی تلاشی کی اطلاعات بھی ہیں۔

طالبان انتظامیہ کے ایک اور ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کی ترجمان کے بیان کومسترد کرتے ہوئے کہا کہ اغوا شدہ خواتین سے متعلق صورت حال کی تحقیقات کی جارہی ہے۔

طالبان کا مؤقف ہے کہ انھوں نے افغان فوجی ارکان سمیت کسی بھی سابقہ مخالف کو عام معافی دے دی ہے اور وہ اسلامی قانون اور رسم و رواج کے مطابق خواتین کے حقوق کا احترام کرتے ہیں جبکہ انسانی حقوق کے بہت سے حامی اورغیرملکی سفارت کاران کے بارے میں شکوک و شبہات کا شکار ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں