عرب اتحاد نے گذشتہ 24 گھنٹے کے دوران میں یمن کے صوبوں مآرب اور حجہ میں ایران کی حمایت یافتہ حوثی ملیشیا کے خلاف 14اہدافی حملے کیے ہیں۔
سعودی پریس ایجنسی (ایس پی اے) نے جمعرات کو عرب اتحاد کے ان فضائی حملوں کی اطلاع دی ہے لیکن اس نے ان میں ہلاکتوں کے بارے میں کچھ نہیں بتایا۔البتہ اس نے کہا ہے کہ ان حملوں میں حوثی ملیشیا کی11 ’’فوجی گاڑیاں‘‘تباہ ہوگئی ہیں۔
یہ فضائی حملے ایسے وقت میں کیے جارہے ہیں جب ایران کے حمایت یافتہ یمنی حوثیوں کے ساتھ متحدہ عرب امارات اور سعودی عرب کی کشیدگی میں اضافہ ہوا ہے۔یواے ای پرحوثی ملیشیا کے حالیہ میزائل اورڈرون حملوں اور سعودی عرب کے شہروں، شہری ڈھانچے اور توانائی کی تنصیبات پر متواترمیزائل ،راکٹ اورڈرون حملوں پرعالمی سطح پرسخت ردعمل کا اظہار کیا گیا ہے اور عالمی رہ نماؤں نے بالخصوص یواے ای پرحوثیوں کے حالیہ میزائل حملوں کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے۔
امریکا نے یکم فروری کو حوثی حملوں کے خلاف متحدہ عرب امارات کے دفاع میں مدد کے لیے گائیڈڈ میزائلوں سے لیس تباہ کن جہازاور جدید ترین لڑاکا طیارے مہیا کرنے کا اعلان کیا تھا۔ابوظبی میں امریکی سفارت خانے نے ایک بیان میں کہا کہ موجودہ خطرے کے خلاف یواے ای کی مددکے لیے جدیددفاعی سامان مہیا کیا جارہا ہے۔
حوثی ملیشیا نے ستمبر2021ءکے بعدیمن کے شمال میں حکومت کے آخری گڑھ صوبہ مآرب کے دارالحکومت شہر پر قبضہ کے کی کوششیں تیز کردی تھیں۔
تاہم ایسوسی ایٹڈ پریس کی رپورٹ کے مطابق 26 جنوری کو یمن کی بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ حکومت کی افواج نے تزویراتی اہمیت کے حامل ایک وسطی صوبہ پر دھاوا بولا تھاجس کے نتیجے میں حوثی جنگجو اپنے زیرقبضہ دوسرے سب سے بڑے ضلع سے پسپا ہوگئے تھے۔
اے ایف پی کی ایک رپورٹ کے مطابق29 جنوری کو جائنٹس بریگیڈز نے یہ دعویٰ کیا تھا کہ اس نے حوثیوں کو تیل کی دولت سے مالا مال صوبہ شبوہ سے پسپا کردیا ہےاورتزویراتی اہمیت کے حامل شہر مآرب کی طرف شمال کی سمت سے جارحیت سے روک دیا ہے۔
ایران کی حمایت یافتہ ملیشیا اکثر دھماکا خیز مواد سے بھرے ڈرونز اور بیلسٹک میزائلوں سے سعودی عرب میں شہری علاقوں اور توانائی کی تنصیبات کونشانہ بناتی ہے۔اب اس نے ڈرون اور میزائل حملوں سے یواے ای کو بھی نشانہ بنانا شروع کردیا ہے۔
اس کے ردعمل میں عرب اتحاد حالیہ مہینوں میں یمن میں حوثی ملیشیا کے جائزفوجی اہداف کے خلاف حملے کررہا ہے اوریمنی شہریوں کو خبردار کر رہا ہے کہ وہ پہلے سے نشانہ بنائے گئے مقامات کے قریب جائیں اور نہ ہی وہاں اکٹھے ہوں۔اتحاد نے اس بات پر بھی زور دیا کہ حوثی ملیشیا کے خلاف یہ کارروائیاں بین الاقوامی انسانی قوانین کے مطابق جاری رکھی جائیں گی۔