امریکی فوج کی مرکزی کمان کے سربراہ جنرل کینتھ میکنزی نے باور کرایا ہے کہ امریکی افواج نے داعش تنظیم کے سربراہ ابو ابراہیم الہاشمی القرشی کے خود کو دھماکے سے اڑانے سے قبل ایک موقع فراہم کیا تھا کہ وہ خود کو حوالے کر دے۔
جنرل میکنزی نے جمعرات کے روز بتایا کہ "دہشت گرد تنظیم کے سربراہ نے لڑائی کے بغیر خود کو اپنے گھرانے کے ساتھ ہلاک کر دیا جب کہ ہم اسے خود کو حوالے کرنے کی دعوت دے رہے تھے ، ہم نے اسے نجات کا موقع دیا تھا"۔
میکنزی کے مطابق انگلیوں کے نشانات کے ڈیجیٹل تجزیے اور ڈی این اے ٹیسٹ سے داعش کے سربراہ کی شناخت کی تصدیق ہو گئی۔
بدھ اور جمعرات کی درمیانی شب شمال مغربی شام میں ہونے والی کارروائی تقریبا دو گھنٹے تک جاری رہی۔
پینٹاگان نے واضح کیا کہ آپریشن کے دوران میں کم از کم تین شہری بھی مارے گئے۔ ان میں القرشی کی بیوی اور دو بچے شامل ہیں۔ یہ لوگ اُس وقت مارے گئے جب داعش کے سربراہ نے خود کو دھماکے سے اڑا لیا۔
دوسری جانب شام میں انسانی حقوق کے نگراں گروپ المرصد کا کہنا ہے کہ آپریشن کے دوران میں تین خواتین سمیت کم از کم 13 افراد ہلاک ہوئے۔
المرصد کے مطابق یہ آپریشن 27 اکتوبر 2019ء کے بعد امریکا کی جانب سے کی گئی سب سے بڑی کارروائی ہے۔ مذکورہ کارروائی کے نتیجے میں شام کے صوبے ادلب میں ہی داعش کا سابق سربراہ ابو بکر البغدادی مارا گیا تھا۔