’جب بورس جانسن کی مہمان وزیراعظم کو10 ڈاؤننگ اسٹریٹ پرشرمندگی اٹھانا پڑی‘

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 6 منٹ

ایسے لگتا ہے کہ برطانوی وزیر اعظم بورس جانسن کے دفترمیں عملے کی کمی ہے ورنہ ان سے ملاقات کے لیے آنے والی لتھوانیا کی ان کی ہم منصب کو 10 ڈاؤننگ اسٹریٹ پر واقع ان کے دفترآمد پر دروازے پر موجود ہونا چاہیے تھا۔ مہمان کو شرمسار نہ ہونا پڑتا۔ عملے کی کمی وجہ سے بورس جانسن کو اپنے فیصلے میں تاخیر ہوئی۔ منگل کو لتھوانیا کی وزیر اعظم انگریڈا شمونیٹس اس وقت شرمناک صورتحال سے دوچار ہوئیں جب انہوں نے برطانیہ کے مشہور ترین 10 ڈاؤننگ اسٹریٹ کے دروازے کو عبور کیا۔ بورس جانسن جب مناسب وقت پر دروازہ نہ کھلوا پائے تو مہمان ملک کی وزیراعظم آگے وزیر خزانہ رشی سناک کی رہائش گاہ کی طرف چلی گئیں۔

مشرقی یورپی ملک لھتوانیا کی 47 سالہ وزیراعظم شیمونیٹس جانسن کے ساتھ یوکرین میں جنگ کے خطرے پر بات کرنے کے لیے برطانیہ آئی تھیں لیکن منگل کی صبح وہ غلط پتے پر چلی گئیں جس پرانہیں شرمسار ہو کر وہاں سے لوٹنا پڑا۔

ڈیلی میل کے ذریعہ شائع ہونے والی ویڈیو فوٹیج میں وہ لمحہ دکھایا گیا ہے جب لتھوانیا کی وزیر اعظم ڈاوننگ اسٹریٹ کے مشہور دروازے سے آگے نکل گئیں۔ وہ بورس جانسن کے بجائے وزیر خزانہ کی رہائش گاہ کے قریب پہنچ گئیں۔ قریب تھا کہ وہ ان سے ملاقات بھی کرلیتیں۔

یوکرین اور روس کے درمیان جاری کشیدگی پر بات کرنے کے لیے لندن پہنچنے پر انگریڈا شمونائٹس کا میڈیا کی جانب سے پرتپاک استقبال کیا گیا، تاہم خاتون کو وزیر اعظم کے دفتر کے سامنے والے دروازے سے گذرنے کے بعد کچھ ہی فاصلے پر واپس جانا پڑا جب وہ دروازہ بند ہونے پر سڑک پر چلتی چلی گئیں۔

جیسے ہی شمونائٹس نے چند قدم پیچھے ہٹائےتو بورس جانسن خوش آمدید کہنے کے لیے نمودار ہوئے اور ان کی طرف دیکھ کر مسکرائے۔

تیکھے ترشے سوالات کے ساتھ استقبال کیے جانے کے باوجود وزیر اعظم مسکراتی رہیں۔ ان میں سے ایک نے ان سے کہا کہ وزیراعظم آپ کے الفاظ کے نتائج ہیں، کیا معافی مانگنے کا وقت آگیا ہے؟"

یہ سر کیر سٹارمر کے بارے میں جانسن کے حالیہ تبصروں کی طرف اشارہ تھا جن کے بارے میں کچھ ناقدین نے دعویٰ کیا ہے کہ گذشتہ روز پارلیمنٹ کے باہر مظاہرین کے ذریعہ لیبر لیڈر کو نشانہ بنایا گیا۔

اسٹارمر پر حملہ

ڈرامائی ویڈیوز میں دکھایا گیا ہے کہ لندن میں میٹروپولیٹن پولیس سروس کے ہیڈکوارٹر (نیو اسکاٹ لینڈ یارڈ) سے نکلنے کے بعد شام کو ویسٹ منسٹر میں چہل قدمی کے دوران سٹارمر پر زبانی حملہ کیا گیا، جہاں اسے سکیورٹی والوں نے گھیر لیا تھا۔

اس کے بعد سٹارمر کو ایک کار کی پچھلی سیٹ پر لے جایا گیا جہاں مظاہرین جمی سیوائل کے بارے میں توہین آمیز جملے بولتے ہوئے اس کے ارد گرد جمع ہوئے۔"اسٹارمر پیڈو فائلز کی حفاظت کر رہے ہیں" کے بارے میں بے بنیاد دعوے کرتے رہے (سیوائل کو مجرم ٹھہرانے میں پبلک پراسیکیوشن کے ڈائریکٹر کے طور پر ان کی ناکامی کی وجہ سے) اسے "غدار" قرار دیتے رہے۔

مظاہرین میں کرونا وائرس کے خلاف ویکسین مخالف کارکن پیئرس کوربن بھی شامل تھے جو اس سے قبل پیر کو لندن کی سڑکوں پر مختلف وجوہات کی حمایت میں نکلنے والے ہجوم کو بھڑکاتے ہوئے دیکھا گیا تھا جس میں 22 جنوری سے کینیڈا کے شہر اوٹاوا میں جاری ٹرک ڈرائیوروں کا احتجاج"آزادی کارواں" کا احتجاج بھی شامل تھا۔

مسز شمونیٹس جو دسمبر 2020 سے لتھوانیا میں برسراقتدار ہیں کو منگل کی صبح ڈاؤننگ سٹریٹ کے ایک مختصر تعارفی دورے پر بھی لے جایا گیا۔

جانسن کے ساتھ اپنی ملاقات کے دوران دونوں نے اپنے ممالک کی مشترکہ تاریخ اور دونوں ممالک کے درمیان تجارت کے فروغ پر تبادلہ خیال کیا اور مشرقی یورپ پر کسی بھی روسی حملے کے اثرات کی مذمت کی۔

جانسن نے کہا کہ روس اور یوکرین کے درمیان بڑھتے ہوئے تناؤ کے درمیان برطانیہ لتھوانیا اور اس کے دیگر نیٹو اتحادیوں کےشانہ بہ شانہ" کھڑا رہے گا۔

انہوں نے کہا کہ میں کہہ سکتا ہوں کہ ہم پہلے سے کہیں زیادہ قریب ہیں۔ "ہم بہت سے اہم معاملات پر ایک ہی نظریہ رکھتے ہیں۔

جبکہ شیمونائٹس نے کہا کہ یہ "نازک" وقت ہے کیونکہ ہم جس وقت سے گزر رہے ہیں وہ پرسکون نہیں ہے۔

لتھوانیا کی وزیر اعظم نے کہا کہ یہ جان کر بہت اچھا لگا کہ ہمارا ایک بہت مضبوط ساتھی اور دوست ہے کہ ہم نیٹو اور دیگر اتحادیوں کی طرح کم از کم ایک ساتھ ہیں اور میرے خیال میں آپ یوکرین کے بارے میں جو کچھ کر رہے ہیں وہ بہت اچھا ہے۔

جانسن نے جواب دیا کہ ہم آپ کے ساتھ اور اپنے تمام نیٹو اتحادیوں کے ساتھ کھڑے ہیں۔ہم آپ کے لیے اپنی حمایت واضح کرنا چاہتے ہیں۔ ہم بیلاروس میں امیگریشن کے مسائل اور ان تمام مسائل پر آپ کی حمایت کرتے ہیں جن کا ہمیں ابھی سامنا ہے۔

یہ ملاقات ایسے وقت میں ہوئی ہے جب امریکی انٹیلی جنس حکام نے خبردار کیا ہے کہ روس یوکرین پر حملہ کرنے کے لیے "70 فیصد تیار" ہے۔

نئی خبروں میں کہا گیا ہے کہ ماسکو نے تقریباً تین چوتھائی مسلح فوجی قوت جمع کر لی ہے جسے فروری میں یوکرین پر مکمل حملہ کرنے کی ضرورت ہوگی۔

مغربی انٹیلی جنس کے جائزوں کا خیال ہے کہ ممکنہ حملے کے آغاز کے دو دنوں کے اندر کیف حکومت گر سکتی ہے، جس کے نتیجے میں ایک انسانی بحران پیدا ہو سکتا ہے جس میں تقریباً 50 لاکھ مہاجرین اور 50,000 سے زیادہ شہری ہلاکتوں کا اندیشہ ہے۔

یوکرین کے قریب سرحد پر حالیہ مہینوں میں ایک اندازے کے مطابق 100,000 فوجیوں کی تعیناتی دیکھی گئی ہے لیکن انخلاء کے بار بار مطالبات کے باوجود کریملن نے یہ کہہ کر جواب دیا ہے کہ وہ روسی سرزمین پر جہاں بھی ضرورت ہو گی اپنی افواج کو تعینات کرے گا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں