طالبان کا اعلیٰ سطح کا ایک وفد عالمی اداروں اورحکومتوں کو افغانستان کوانسانی ہمدردی کی بنیاد پرامداد مہیا کرنے پرقائل کرنے کے لیے اتوار کے روزدوحہ پہنچا ہے۔
طالبان کی وزارت خارجہ نے ٹویٹرپربتایا ہے کہ وزیر خارجہ امیرخان متقی کی قیادت میں وفد دوحہ میں یورپی یونین کے وفد، سفارتی مشنوں اورخلیجی ممالک کے حکام سے ملاقات کرے گا۔
دوحہ میں طالبان وفد کی آمد کی تصدیق برطانوی حکومت کے ترجمان سمیت بین الاقوامی ذرائع نے کی ہےاور وہ یہ دورہ ایسے وقت میں کررہے ہیں جب افغانستان کی عالمی امداد سے محروم معیشت بحران کا شکار ہوچکی ہے۔
طالبان عالمی امداد کے حصول کے لیے یہ نئی کوشش گذشتہ ماہ کے آخرمیں اوسلومیں عالمی حکومتوں کے نمایندوں سے ملاقات کررہے ہیں۔افغانستان کی سابقہ حکومت کو بھاری مالی امداد مہیا کی گئی تھی۔معزول صدراشرف غنی کی مغرب کی حمایت یافتہ حکومت کاطالبان نے گذشتہ سال اگست میں تختہ الٹ دیا تھا۔
طالبان حکومت کوابھی تک کسی بھی ملک نے باضابطہ طورپرتسلیم نہیں کیا ہے۔اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ افغانستان کے تین کروڑ80 لاکھ افراد میں سے نصف کو خوراک کی قلّت کا سامنا ہے۔
امیرخان متقی نے رواں ماہ کے اوائل میں اے ایف پی کو ایک انٹرویو میں بتایا تھا کہ طالبان بین الاقوامی سطح پر تسلیم ہونے کے قریب پہنچ رہے ہیں لیکن توقع ہے کہ ان کے وفد کوپیر سے شروع ہونے والے دوحہ مذاکرات میں انسانی اورخاص طورپرخواتین کے حقوق کو بہتربنانے کے مطالبات کا سامنا کرناپڑے گا۔
دوحہ میں برطانوی حکومت کے ترجمان نے بتایاکہ برطانوی حکام افغان عوام کی مدد کے ہمارے عزم کو پورا کرنے کے لیے طالبان کے ساتھ عملی بات چیت جاری رکھے ہوئے ہیں۔ہم طالبان پرانسانی حقوق بالخصوص خواتین اورلڑکیوں کے حقوق کے بارے میں سنگین تشویش کا اظہارکرتے رہتے ہیں اورحال ہی میں 10 فروری کو برطانوی حکام کے کابل کے دورے پربھی طالبان سے اس ضمن میں بات چیت کی ہے۔
طالبان حکام نے امدادکے حصول کے لیے گذشتہ ہفتے جنیوا میں امدادی گروپوں اورعالمی خیراتی اداروں سے بھی ملاقات کی تھی۔