یوکرین میں سرکاری ٹی وی نے آج جمعے کے روز بتایا کہ دارالحکومت کیف میں حکام نے فضائی حملوں کے حوالے سے خطرے کے سائرن بجائے۔ یہ اقدام آج علی الصباح روس کی جانب سے میزائلوں حملوں کے بعد سامنے آیا۔ شہر کی بلدیہ نے لوگوں پر زور دیا ہے کہ وہ قریب ترین پناہ گاہوں کا رخ کریں۔ یوکرین کی فوج کے مطابق دارالحکومت کیف کے شمال میں شدید لڑائی جاری ہے۔
ادھر یوکرین کی حکومت کے ایک مشیر نے خبردار کیا ہے کہ جمعے کا روز یوکرین پر روسی حملے کے بعد "دشوار ترین دن" ہو گا۔ حکومتی مشیر اینٹن ہیراشچنکو نے انکشاف کیا کہ روس کا منصوبہ یہ ہے کہ کیف پر قبضے کے لیے فوجی ٹینک استعمال کیے جائیں۔ انہوں نے کہا کہ کیف کا دفاع کرنے والے ٹینک شکن راکٹوں کے ساتھ تیار ہیں۔ یہ راکٹ بیرونی حلیفوں نے یوکرین کو پیش کیے۔
اس دوران میں یوکرین کے نائب وزیر دفاع نے بتایا کہ تعداد میں کم ہونے کے باوجود فوج کے یونٹوں کی جانب سے چار محاذوں دفاع کیا جا رہا ہے۔
یوکرین کے ایک عسکری ذمے دار کے مطابق یوکرین کی فورسز ملک کے شمالی شہر چیرنہیف پر روسی حملہ پسپا کرنے میں کامیاب رہیں۔ روسی خبر رساں ایجنسی "تاس" نے بتایا ہے کہ یوکرین کی فوج نے دونباس ریجن میں بم باری کی ہے۔
اس سے قبل یوکرین کے صدر ولودیمیر زیلنسکی نے کہا تھا کہ ان کے ملک پر روسی جارحیت کا جاری رہنا اس بات کا مظہر ہے کہ مغربی ممالک کی جانب سے ماسکو پر عائد پابندیوں کافی نہیں۔ زیلنسکی کے مطابق یوکرین میں جو کچھ ہو رہا ہے دنیا اسے مسلسل دور سے دیکھ رہی ہے۔
روس نے یوکرین پر حملوں کا سلسلہ جاری رکھا ہوا ہے۔ اس نے شہروں اور فوجی اڈوں پر فضائی حملے کیے۔ علاوہ ازیں تین سمتوں سے فوج اور ٹینکوں کو بھیجا۔
آج جمعے کو علی الصبح دارالحکومت کیف میں زور دار دھماکے سنے گئے۔ فوری طور پر ان دھماکوں کی نوعیت واضح نہیں ہو سکی۔ جمعرات کے روز ہونے والی لڑائی میں یوکرین کے 100 افراد مارے گئے۔