یوکرین کے صدر ولودی میرزیلنسکی کے ایک مشیر نے جنوبی بندرگاہ خیرسن پر روسی فوج کے قبضے سے متعلق اطلاعات کی تردید کی ہے۔روس نے اس سے پہلے بدھ کو یہ دعویٰ کیا تھا کہ اس نے یوکرین پر حملے کے ساتویں روز اس شہر پرقبضہ کر لیا ہے۔
صدارتی مشیر اولیکسئی اریسٹوویچ نے ایک نیوزبریفنگ میں کہا ہے کہ صوبائی دارالحکومت اور ڈھائی لاکھ کی آبادی کے شہرمیں لڑائی جاری ہے۔یوکرین کا یہ شہر بحیرہ اسود کے کنارے واقع ہے اوریہیں پردریائے ڈنیپرو سمندر میں گرتا ہے۔
اریسٹوویچ نے صدر کے دفتر کی ویب سائٹ پر براہ راست بریفنگ نشر کرتے ہوئے کہا کہ شہرکا سقوط نہیں ہوا ہے، ہماری فوج دفاع جاری رکھے ہوئے ہے اور سڑکوں پر لڑائی جاری ہے۔
انھوں نے خیرسن کے سقوط سے متعلق اطلاعات کو نادرست قراردیا ہے اور یہ دعویٰ کیا ہے کہ ہمارے فوجی اور مقامی محافظ شہراوراس کے گردونواح میں روسی فوج کی مزاحمت جاری رکھے ہوئے ہیں۔
خیرسن جزیرہ نما کریمیا سے قریباً 130 کلومیٹر کے فاصلے پرواقع ہے۔یوکرین کی اس ریاست کو روس نے 2014 میں ضم کر لیا تھا۔