روس اور یوکرین

شرائط تسلیم کیے بغیر یوکرین سے مذاکرات ممکن نہیں: پوتین

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

روسی صدر ولادیمیر پوتین نے جمعے کو جرمن چانسلر اولاف شولز کے ساتھ فون پر بات کرتے ہوئے زور دیا کہ یوکرین میں امن کے لیے بات چیت صرف اسی صورت میں ممکن ہے جب ماسکو کے تمام مطالبات تسلیم کیے جائیں۔

کریملن نے کہا کہ "ماسکو یوکرینی فریق اور یوکرین میں امن کے خواہاں تمام لوگوں کے ساتھ بات چیت کے لیے تیار ہے، لیکن صرف اس شرط پر کہ تمام روسی مطالبات پورے کیے جائیں۔ "

انہوں نے اس امید کا اظہار کیا کہ کیف کے نمائندے بات چیت کے تیسرے دور کے دوران ایک منطقی اور تعمیری موقف اختیار کریں گے۔

پوتین نے شلٹز کو مزید کہا کہ روسی افواج یوکرین کے شہروں پر بمباری نہیں کرتی ہیں۔ کریملن کے مطابق اس سلسلے میں الزامات کو "من گھڑت" سمجھتے ہیں۔

یوکرینی شہر کیف کے مناظر۔
یوکرینی شہر کیف کے مناظر۔

قابل ذکر ہے کہ ان مطالبات میں یوکرین کی جانب سے غیرجانبداری کو اپنانا، جوہری ہتھیاروں کو ترک کرنا، اس کی "ڈی-نازیفیکیشن"، روس کے کریمیا کے الحاق کو تسلیم کرنا اور مشرقی یوکرین میں علیحدگی پسند علاقوں کی "خودمختاری" شامل ہیں۔

مذاکرات کا نیا دور

کیف کے ایک مذاکرات کار نے بتایا کہ یوکرین ہفتے کے آخر میں ماسکو کے ساتھ مذاکرات کا ایک نیا دور منعقد کرنے کی تیاری کر رہا ہے تاکہ جنگ کو ختم کیا جا سکے۔

یوکرین کے صدارتی مشیر میخائیلو پوڈولیاک نے جنگ کے آٹھویں دن مغربی یوکرین کے شہر لویف میں ایک پریس کانفرنس کے دوران کہا کہ "تیسرا دور ہفتے یا اس کے اگلے دن ہو سکتا ہے۔ ہم مسلسل رابطے میں ہیں۔

یوکرینی شہر کیف کے مناظر۔
یوکرینی شہر کیف کے مناظر۔

انہوں نے انکشاف کیا کہ یوکرین کے حکام مذاکرات کی میز پر واپس آنے کے لیے روسیوں کی منظوری کا انتظار کر رہے ہیں۔

جرمن چانسلری نے جمعے کی صبح اعلان کیا تھا کہ اولاف شولز نے ولادی میر پوتین کو ٹیلی فون کیا تھا، جنھوں نے انھیں یقین دلایا تھا کہ ہفتے کے آخر میں مذاکرات دوبارہ شروع ہوں گے۔

مذاکرات کے پچھلے دو راؤنڈز جو یوکرائن-بیلاروس اور یوکرین-ہنگریئن سرحدوں پر منعقد ہوئے تھے میں لڑائی ختم کرنے پر اتفاق نہیں ہوسکا تاہم دونوں فریق شہریوں کو نکالنے کے لیے "انسانی ہمدردی کی راہداری" قائم کرنے پر متفق ہوئے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں