یوکرین کو S-400 نظام کی منتقلی پر امریکی اور ترک حکام میں تبادلہ خیال

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

تین باخبر ذرائع نے انکشاف کیا ہے کہ امریکا نے غیر سرکاری طور پر ترکی کے ساتھ روسی ساختہ S-400 میزائل ڈیفنس سسٹم یوکرین کو بھیجنے کے امکان پر بات چیت کی ہے تاکہ حملے آور روسی افواج سے لڑنے میں اس کی مدد کی جا سکے۔

ذرائع نے "رأیٹرز" کو بتایا کہ امریکی حکام نے گذشتہ ماہ اپنے ترک ہم منصبوں کو یہ تجویز پیش کی لیکن کوئی خاص یا سرکاری درخواست پیش نہیں کی گئی۔

ذرائع نے مزید کہا کہ اس تجویز پر اس ماہ کے شروع میں امریکی نائب وزیر خارجہ وینڈی شرمین کے دورہ ترکی کے دوران مختصراً تبادلہ خیال کیا گیا تھا۔

روسی آلات اور نظام

صدر جو بائیڈن کی انتظامیہ نے S-300 اور S-400 سمیت روسی ساختہ آلات اور نظام استعمال کرنے والے اتحادیوں سے کہا ہے کہ وہ انہیں یوکرین منتقل کرنے پر غور کریں کیونکہ وہ 24 فروری سے شروع ہونے والے روسی حملے کو روکنے کی کوشش کر رہا ہے۔

تجزیہ کاروں کا کہنا تھا کہ ترکی تقریباً یقینی طور پر اس تجویز کو مسترد کر دے گا۔ شرمین اور ترک حکام کے درمیان کھل کر بات ہوئی جس میں انہوں نے غور کیا کہ کس طرح امریکا اور اس کے اتحادی یوکرین کی حمایت کے لیے مزید کچھ کر سکتے ہیں اور دو طرفہ تعلقات کو کیسے بہتر بنایا جا سکتا ہے۔

دوسری طرف ترک حکام نے انقرہ کی ملکیت والے S-400 نظام کی یوکرین کو منتقلی کے حوالے سے کسی بھی امریکی تجویز پر تبصرہ نہیں کیا ہے۔ روس سے خریدے گئے اس سسٹم کی وجہ سے نیٹو کے دو اتحادیوں کے درمیان طویل عرصے سے تنازعہ چلا آ رہا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں