افغانستان وطالبان

افغانستان:طالبان کا تنہاخواتین کو پروازوں میں بیٹھنے کی اجازت دینے سےانکار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

افغانستان کے طالبان حکمرانوں نے درجنوں تنہا خواتین کواندرون اور بیرون ملک جانے والی پروازوں میں سوار ہونے کی اجازت دینے سے انکار کردیا ہے اور انھیں کہا ہے کہ وہ کسی مرد سرپرست کے بغیرسفرنہیں کرسکتی ہیں۔

افغان ایئرلائن کے دو افسروں نے طالبان کے ردعمل کے خوف سے نام ظاہرنہ کرنے کی شرط پربتایا کہ جمعہ کے روز کابل کے بین الاقوامی ہوائی اڈے پر اندرون ملک اوربین الاقوامی پروازوں میں سوار ہونے کے لیے پہنچنے والی درجنوں خواتین کو آگاہ کیا گیا ہے کہ وہ کسی مرد سرپرست کے بغیر ایسا نہیں کرسکتی ہیں۔

ایک عہدہ دار کے مطابق ان میں بعض خواتین دُہری شہریت کی حامل تھیں اور وہ بیرون ملک اپنے گھروں کو لوٹ رہی تھیں۔ان میں سے کچھ کینیڈا سے بھی تھیں۔ حکام نے بتایا کہ کام ایئر اور سرکاری فضائی کمپنی آریانا ایئرلائن کی اسلام آباد، دبئی اور ترکی جانے والی پروازوں میں خواتین کو سوار ہونے کی اجازت دینے سے انکار کیا گیا ہے۔

ایک عہدہ دار نے بتایا کہ یہ حکم طالبان قیادت کی جانب سے آیا ہے۔البتہ ہفتے کے روز تک اکیلے سفرکرنے والی کچھ خواتین کو مغربی صوبہ ہرات کے لیے آریانا ایئرلائنز کی پرواز میں سوار ہونے کی اجازت دے دی گئی تھی۔تاہم، جب تک اجازت نامہ موصول ہوا،وہ اپنی پرواز میں سوار ہونے سے محروم ہو چکی تھی۔

طالبان تحریک سے تعلق رکھنے والے ہوائی اڈے کے صدر اور پولیس سربراہ اس معاملے پرایئرلائن حکام سے بات چیت کر رہے تھے اور وہ اس مسئلہ کے حل کے لیے کوشاں تھے۔ابھی تک یہ واضح نہیں تھا کہ آیا طالبان کئی ماہ قبل جاری کردہ اس حکم نامے سے فضائی سفرکو مستثنیٰ قراردیں گے جس کے تحت 72 کلومیٹر سے زیادہ کا سفر کرنے والی خواتین کے ساتھ ایک مرد رشتہ دارکا ہونا ضروری ہے۔

طالبان کے زیرِانتظام افغانستان میں خواتین کے حقوق پر اس تازہ حملہ سے دوروز قبل جمعرات کو تمام مردوں پر مشتمل حکومت نے لڑکیوں کوہائی اسکولوں میں لوٹنے کی اجازت دینے کا فیصلہ واپس لے لیا ہے۔اس طرح انھوں نے عالمی طاقتوں سے بچیّوں کو تعلیم کی اجازت دینے کے کیے گئے وعدہ کی خلاف ورزی کی ہے۔

اس اقدام پرعالمی برادری نے سخت ردعمل کا اظہارکیا ہے جبکہ وہ گذشتہ سال اگست میں طالبان کے اقتدار میں آنے کے بعد ان کی حکومت کو تسلیم کرنے سے گریزاں ہے اور اسے خدشہ ہے کہ وہ 1990 کی دہائی کی طرح ایک سخت گیرحکومت کی طرف لوٹ جائیں گے۔

طالبان کی جانب سے تمام افغان بچوں کے لیے دوبارہ اسکول کھولنے سے انکار نے افغان آبادی کے بڑے حصے کو بھی مشتعل کر دیا ہے۔ہفتے کے روز افغان دارالحکومت میں درجنوں لڑکیوں نے اسکول جانے کے حق میں مظاہرہ کیااور طالبان سے اسکول کھولنے کا مطالبہ کیا ہے۔

طالبان کی جانب سے چھٹی جماعت سے اعلیٰ ثانوی جماعتوں تک لڑکیوں کی تعلیم پر پابندی کے بعد خواتین کے حقوق کی کارکن محبوبہ سراج نے افغانستان کے طلوع ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا:’’ہم بحیثیت قوم اب آپ کے الفاظ پرکیسے بھروسا کریں گے؟ ہمیں آپ کوخوش کرنے کے لیے کیا کرنا چاہیے؟ کیا ہم سب کو مرجانا چاہیے؟‘‘

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں