روس اور یوکرین

روس میں حکومت کی تبدیلی کی بات نہیں کی: جوبائیڈن

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

امریکی صدر کی جانب سے اس بیان کے بعد کہ ان کے روسی ہم منصب ولادیمیر پوتین اقتدار میں نہیں رہ سکتے، ہفتے کو وارسا میں ایک تقریر کے دوران جو بائیڈن نے زور دے کر کہا کہ انہوں نے روس میں حکومت کی تبدیلی کا مطالبہ نہیں کیا۔

ایک نامہ نگار کے سوال کے جواب میں کہ کیا وہ ماسکو میں اقتدار کی تبدیلی کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ اس پر انہوں نے کہا کہ ہم ماسکو میں حکومت کی تبدیلی کی بات نہیں کررہے ہیں۔

قابل ذکر ہے کہ بائیڈن نے پولینڈ کے دورے کے دوران اپنے روسی ہم منصب کو قصائی قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ وہ اقتدار میں نہیں رہ سکتے۔

جس پر کریملن کی طرف سے فوری ردعمل آیا، جس میں اس بات پر زور دیا گیا کہ یہ مسئلہ خالصتاً اندرونی معاملہ ہے کیونکہ صرف روسی ہی اپنے صدر کے انتخاب کا فیصلہ کرتے ہیں۔

کریملن کے ترجمان دمتری پیسکوف نے کہا کہ یہ مسئلہ امریکی صدر کا نہیں۔ "رائیٹرز" کے مطابق انہوں نے کہا کہ روس میں کون صدر ہوگا اور کس کی حکومت ہوگی۔ یہ امریکی صدر کا درد سر نہیں۔

بعد ازاں وائٹ ہاؤس کے ساتھ ساتھ امریکی وزیر خارجہ انٹنی بلنکن نے بھی واضح کیا کہ واشنگٹن کا مقصد روس یا دیگر ممالک میں حکومت تبدیل کرنا نہیں ہے۔

گذشتہ ہفتوں کے دوران، ماسکو اور واشنگٹن کے درمیان تعلقات بری طرح متاثر ہوئے ہیں۔ امریکا نے روس پر یوکرین حملے کے باعث پابندیاں عاید کرنا شروع کی ہیں اور امریکی حکام روسی عہدیداروں کو کری تنقید کا نشانہ بنا رہے ہیں۔

قبل ازیں امریکی صدر بائیڈن نے روسی افواج کے خلاف یوکرین کی مزاحمت کو "آزادی کی عظیم لڑائی" کا حصہ قرار دیتے ہوئے دنیا سے ایک "طویل جنگ" کے لیے تیار رہنے کا مطالبہ کیا۔

بائیڈن نے پولینڈ کے دارالحکومت وارسا میں صدارتی محل سے اعلان کیا کہ روس نے جمہوریت کو دبایا، دوسری جگہوں پر بھی ایسا کرنے کی کوشش کی۔ یوکرینیوں کو مخاطب کرتے ہوئے انہوں نے مزید کہا کہ ہم آپ کے ساتھ ہیں۔

امریکی صدر بائیڈن نے یوکرین کے تنازعے کو روس کے لیے "اسٹریٹجک ناکامی" قرار دیتے ہوئے اس بات پر زور دیا کہ روسی عوام "ہمارے دشمن نہیں ہیں۔"

بائیڈن نے کہا کہ اس میں کوئی شک نہیں کہ یہ جنگ روس کے لیے ایک تزویراتی ناکامی بن گئی ہے۔میں یہ ماننے سے انکاری ہوں کہ آپ معصوم بچوں اور بزرگوں کے قتل کو قبول کرتے ہیں، یا یہ کہ آپ اسپتالوں، اسکولوں اور زچگی کے طبی مراکز پر روسی بمباری کو قبول کرتے ہیں۔

بائیڈن نے پوتین کے بارے میں کہا کہ خدا کے لیے یہ شخص اقتدار میں نہیں رہ سکتا۔

بائیڈن نے پولینڈ کے دارالحکومت وارسا میں اپنی تقریر کا اختتام کرتے ہوئے تبصرہ کیا کہ ہمارا ایک مختلف مستقبل ہوگا۔ ایک روشن مستقبل جس کی جڑیں جمہوریت، اصول، امید اور روشنی میں ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں