روس اور یوکرین

روس کی یوکرین کےحملوں کے جواب میں کیف میں فیصلہ سازی مراکز کو نشانہ بنانے کی دھمکی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

روس کی مسلح افواج نے بدھ کے روز دھمکی دی ہے کہ اگر یوکرینی فوج نے روسی علاقے پرحملے جاری رکھے تو وہ دارالحکومت کیف میں ’’فیصلہ سازی کے مراکز‘‘کو نشانہ بنائیں گی۔

روس کے سرکاری خبررساں ادارے تاس کی رپورٹ کے مطابق وزارتِ دفاع کے ترجمان میجرجنرل ایگور کوناشینکوف نے کہا کہ ہم روسی فیڈریشن کی سرزمین پر موجوداشیاء وتنصیبات پریوکرینی فوجیوں کی تخریب کاری اورحملوں کی کوششیں دیکھ رہے ہیں۔اس طرح کے واقعات جاری رہے تو روسی فیڈریشن کی مسلح افواج یوکرین کے فیصلہ سازی کے مراکز بشمول کیف پر حملے کریں گی حالانکہ اس نے اب تک انھیں نشانہ بنانے سےگریز کیا ہے۔

انھوں نے مزید کہا کہ روسی افواج نے ماریوپول کی بندرگاہ پر مکمل کنٹرول حاصل کرلیا ہے اور بحری جہازوں پرموجود ’یرغمالیوں‘کو آزاد کرالیا گیا ہے۔

کوناشینکوف نے دعویٰ کیا کہ ماریوپول شہرمیں تجارتی بندرگاہ کو نازی گروپ ازوف کے عسکریت پسندوں سے مکمل طورپرآزاد کرا لیا گیا ہے اور نازیوں نے بندرگاہ پر جن بحری جہازوں پرقبضہ کررکھا تھا،ان پر موجود تمام یرغمالیوں بشمول غیرملکیوں کو رہا کردیا گیا ہے۔

ازوف بٹالین ایک انتہائی دائیں بازو کی ملیشیا ہے اور یہ اب یوکرین کے نیشنل گارڈ کا حصہ ہے۔اس سے قبل روسی وزارت دفاع نے کہاتھا کہ ماریوپول کی بندرگاہ میں ایک ہزار سے زیادہ یوکرینی میرینز نے ہتھیار ڈال دیے ہیں۔

ماریوپول شہر گذشتہ کئی ہفتوں سے روسی فوجیوں کے محاصرے میں ہےاور ان کی مسلسل بمباری کی زد میں ہے۔اگر روسی فوجی اس پر قبضہ کرلیتے ہیں تو ماریوپول 24 فروری کو ماسکو کی فوج کے یوکرین پرحملے کے بعد پہلا بڑا شہرہوگا،جس کا سقوط ہوگا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں