شاہ سلمان کی ’کے ایس ریلیف‘کویوکرینی پناہ گزینوں کوایک کروڑڈالرامدادمہیا کرنےکی ہدایت

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

سعودی عرب کے شاہ سلمان بن عبدالعزیز نے شاہ سلمان انسانی امداد اور ریلیف مرکز(کے ایس ریلیف) کو ہدایت کی ہے کہ وہ یوکرینی پناہ گزینوں کو فوری طور پر ایک کروڑ ڈالر کی امداد مہیا کرے۔

سعودی عرب کی سرکاری پریس ایجنسی کے مطابق کے ایس ریلیف کی جانب سے مہیا کی جانے والی امداد سے پولینڈ پہنچنے والے یوکرینی پناہ گزینوں کو بنیادی طور پر فائدہ ہوگا۔امدادی سامان یا رقوم پولش حکومت اور اقوام متحدہ کے اداروں کے ساتھ ہم آہنگی سے تقسیم کی جائے گی۔

مارچ کے آخرمیں سعودی عرب کے وزیرخارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان نے کہا تھا کہ یوکرین میں جاری تنازع کے خاتمے کے لیے بات چیت ضروری ہے۔انھوں نے قطر میں دوحہ فورم میں گفتگو کرتے ہوئے کہا تھا کہ اس بحران کے سیاسی حل اور شہریوں کے مصائب کو ختم کرنے کے لیے بات چیت ناگزیرہے۔

مارچ کے اوائل میں روس کے یوکرین پر حملے کے فوراً بعد سعودی عرب کے ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے یوکرینی صدر ولودی میرزیلنسکی کے ساتھ ٹیلی فون پر تبادلہ خیال کیا تھا اور بحران کے خاتمے کے لیے مملکت کی حمایت کا اعادہ کیا تھا اور کہا تھا کہ یوکرین کے روس کے ساتھ تنازع کے حل کے لیے سعودی عرب ثالثی کو تیار ہے۔

ولی عہد نے زیلنسکی کو یہ بھی بتایا کہ سعودی عرب یوکرینی زائرین، سیاحوں اور مملکت کے رہائشیوں کے ویزوں میں ازخودمزید توسیع کردے گا اور حکومت ان کے آرام اور تحفظ کا ہرممکن خیال رکھے گی۔

واضح رہے کہ 1945ء کے بعد روس کا کسی یورپی ریاست پریہ پہلاحملہ ہے اور اس جنگ کے آغاز کے بعد سے 46 لاکھ سے زیادہ افراد گھربار چھوڑ کربیرون ملک فرار ہو چکے ہیں، ہزاروں ہلاک یا زخمی ہو چکے ہیں اور روس عالمی سطح پر تیزی سے تنہا ہوکررہ گیا ہے۔

یوکرینی پراسیکیوٹر جنرل کے دفتر کے مطابق حملے کے آغاز سے اب تک 191 بچے ہلاک اور 349 زخمی ہوچکے ہیں۔ کریملن اس جنگ کو یوکرین کو غیر فوجی بنانے اور ’نازی‘ ازم سے پاک کرنے کے لیے’’خصوصی فوجی آپریشن‘‘ کا نام دیتا ہے جبکہ یوکرین اوراس کے مغربی اتحادی اسے بلااشتعال جارحیت کا جھوٹا بہانہ قرار دیتے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں