روس اور یوکرین

یوکرین میں لڑائی سال کے اختتام تک جاری رہ سکتی ہے: امریکا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

یوکرین میں روس کے فوجی آپریشن کا آج 52 واں روز ہے۔ بظاہر ایسا لگتا ہے کہ یہ آپریشن کئی ماہ تک جاری رہے گا۔

دو یورپی ذمے داران کے مطابق امریکی وزیر خارجہ اینٹنی بلنکن نے یورپی اتحادیوں کو آگاہ کیا ہے کہ "ان کا ملک یہ سمجھتا ہے کہ یوکرین میں روس کی جنگ 2022ء کے اختتام تک جاری رہ سکتی ہے"۔

اس سلسلے میں متعدد ذمے داران امریکی نیوز چینل CNN کو یہ باور کرا چکے ہیں کہ اس بات کی قیاس آرائی مشکل کام ہے کہ یوکرین کی اراضی پر روسی فوجی آپریشن کتنی مدت تک جاری رہ سکتا ہے۔ روسی صدر ولادی میر پوتین زمینی اہداف حاصل کرنے میں کامیاب نہیں ہو سکے ہیں اور عسکری ہزیمت کا سامنا کرنے سے پہلے مذاکرات کے ذریعے مقاصد کا حصول نظر نہیں آ رہا۔

ادھر یوکرین کی حکومت نے خبردار کیا ہے کہ جنگ کی مدت طویل ہونے کے ساتھ ملک میں مادی اور جانی نقصان میں بھی اضافہ ہو گا۔ یوکرینی صدر ولودی میر زیلنسکی انکشاف کر چکےہیں کہ ابھی تک جنگ میں ان کے 2500 سے 3000 فوجی ہلاک ہوئے ہیں جب کہ روس 19000 سے 20000 فوجیوں کو کھو چکا ہے۔

روس نے یوکرین میں فوجی آپریشن کا آغاز 24 فروری کو کیا تھا۔ تاہم ماسکو حکومت ابھی تک ماریوپول شہر کے سوا یوکرین کے بڑے شہروں پر کنٹرول نہیں حاصل کر سکی ہے۔

رواں ماہ کے اوائل میں روسی افواج دارالحکومت کئیف کے اطراف سے پیچھے ہٹ گئیں۔ اس کی وجہ فوج کو درپیش لوجسٹک مشکلات اور یوکرین کی جانب سے شدید مزاحمت بتائی جا رہی ہے۔ روس نے اس وجہ کی تردید کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ اس کی افواج کا انخلا مشرقی یوکرین میں کارروائیوں پر توجہ مرکوز کرنے کے واسطے عمل میں آیا ہے۔

کرملن ہاؤس کئی بار باور کرا چکا ہے کہ اہداف کے حصول تک فوجی آپریشن جاری رہے گا۔ ان مقاصد میں کئیف کو غیر مسلح کرنا شامل ہے۔

یوکرین اس بات کی بین الاقوامی ضمانتوں کا مطالبہ کر رہا ہے کہ مستقبل میں روس اس پر کوئی حملہ نہیں کرے گا۔ البتہ نیٹو اتحاد میں شمولیت کی کوششوں کے موقف پر کئیف حکومت نے کچھ لچک ظاہر کی ہے۔

متعدد مغربی ممالک یہ باور کرا چکے ہیں کہ فریقین کی ہٹ دھرمی اور اپنے مطالبات اور اہداف پر ڈٹے رہنے کے نتیجے میں اس بحران کا جلد کوئی حل دکھائی نہیں دے رہا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں