امریکا میں الاباما یونیورسٹی کی ایک سابق طالبہ کو دہشت گرد تنظیم القاعدہ کے لیے فنڈنگ چھپانے کے الزام میں سات برس سے زیادہ قید کی سزا سنائی گئی ہے۔
اس لڑکی کا نام آلاء ابو سعد ہے اور اس کی عمر 26 برس ہے۔ آلاء نے 2019ء میں اپنے جرم کا اقرار کیا تھا۔ اس سے قبل اس نے امریکی FBI کے ایک خفیہ اہل کار کو آگاہ کیا تھا کہ دہشت گرد جنگجوؤں کو رقوم کس طرح ارسا کی جاتی ہیں۔
امریکی اخبار نیویارک پوسٹ نے جمعرات کے روز اپنی ویب سائٹ پر بتایا کہ سابقہ یونیورسٹی طالبہ نے اپنے ایجنٹ سے مطالبہ کیا تھا کہ رقوم کی منتقلی کے عمل میں فرضی نام اور پتوں کا استعمال کریں تا کہ پولیس کی جانب سے ان کا پتہ نہ چلایا جا سکے۔
ادھر وفاقی استغاثہ نے تصدیق کی ہے کہ آلاء کے لیے یہ بھی حکم جاری ہوا ہے کہ وہ رہائی کے بعد 10 برس زیر نگرانی رہ کر گزارے گی۔
آلاء کے وکلاء نے واضح کیا ہے کہ ان کی مؤکلہ نفسیاتی صحت کے مسائل سے دوچار ہے اور اس وجہ سے وہ انٹرنیٹ کے سنگین خطرات کا شکار ہو گئی۔ وکلاء کا اشارہ دہشت گردوں کے ساتھ خط و کتابت کی جانب تھا۔
امریکی چینل فوکس نیوز کے مطابق عدالتی دستاویزات میں آلاء کو اچھوتوں کے مزاج والی لڑکی قرار دیا اس لیے کہ وہ بچپن میں شدید غصے اور تشدد کا نشانہ بنائی جاتی رہی۔
-
یمن :حضرموت میں جیل سے القاعدہ کے دس قیدی فرار
یمن کے مشرقی صوبہ حضرموت میں ایک جیل میں قید القاعدہ کے دس عسکریت پسند فرار ہو گئے ...
بين الاقوامى -
القاعدہ کے قائد الظواہری کی نئی ویڈیو؛موت کی افواہ دم توڑ گئی!
القاعدہ کے سربراہ ڈاکٹرایمن الظواہری کی ایک نئی ویڈیو منظرعام پر آئی ہے۔اس میں وہ ...
ایڈیٹر کی پسند -
سعودی عرب: داعش،القاعدہ کے ارکان سمیت 81 سزایافتہ مجرموں کے سرقلم
سعودی عرب کی وزارت داخلہ نے ہفتے کے روز داعش اور القاعدہ کے لیے کام کرنے والے ...
بين الاقوامى