امریکا نے سعودی عرب کو بیرونی خطرات سے نمٹنے میں مدد دینے کے عزم کا اعادہ کیا ہے۔
یہ بات امریکی محکمہ دفاع پینٹاگون نے رواں ہفتے واشنگٹن میں امریکا اور سعودی عرب کی مشترکہ تزویراتی منصوبہ بندی کمیٹی کےاجلاس کے بعد جاری کردہ بیان میں کہی ہے۔
اجلاس میں پینٹاگون کےانڈرسیکرٹری دفاع برائے پالیسی کولن کاہل نے امریکی وفد کی قیادت کی جبکہ نائب وزیر دفاع شہزادہ خالد بن سلمان نے سعودی وفد کی قیادت کی۔
I also met with @DOD_Policy during a meeting of the Saudi-U.S Strategic Joint Planning Committee for an extensive discussion on regional and international developments, and a number of issues concerning global security and stability, including defending our common interests. pic.twitter.com/MEAe8l9kS5
— Khalid bin Salman خالد بن سلمان (@kbsalsaud) May 18, 2022
پینٹاگون نے کہا کہ کولن کاہل اور شہزادہ خالد نے امریکا اور سعودی عرب کے درمیان دفاعی شراکت داری کے عزم کا اعادہ کیا۔ ڈاکٹر کاہل نے مملکت سعودی عرب کوامریکا کا تزویراتی شراکت دارقرار دیا اور بیرونی خطرات سے دفاع میں مملکت کی حمایت کے لیے امریکی عزم کواجاگرکیا۔
دونوں عہدے داروں نے چین کے بارے میں امریکی نقطہ نظر سے متعلق بھی بات چیت کی۔واضح رہے کہ امریکا چین کوایک بڑھتے ہوئے خطرے کے طور پر دیکھتا ہے۔انھوں نے یمن جنگ، سمندری خطرات اور پُرتشدد انتہاپسند تنظیموں کے بارے میں بھی تبادلہ خیال کیا۔
خطے میں ایران کی تخریبی سرگرمیاں اوراقدامات بھی موضوع بحث تھے۔ انھوں نے مشرقِ اوسط کے خطے میں متشددغیرریاستی گروہوں کوناجائز ہتھیاروں کی اسمگلنگ کی روک تھام کے لیے باہمی تعاون بڑھانے اور مشترکہ کام کرنے پراتفاق کیا۔
پینٹاگون نے کہا کہ کاہل نے سعودی وزارت دفاع میں تبدیلی کے عمل کی تعریف کی ۔یہ سعودی عرب اورامریکا کی اولین ترجیح رہاہے۔انھوں نے دونوں ممالک کے مربوط علاقائی فضائی اور میزائل دفاع کے لیے مل کرکام کرنے کی ضرورت پربھی زوردیا۔
پینٹاگون نے کہا کہ طرفین نے دونوں ملکوں کے درمیان مشترکہ فوجی تربیت، مشقوں اورعلاقائی تعاون اور سلامتی کو وسعت دینے کی شدید خواہش کا اظہار کیا اورامریکا اور سعودی عرب کے درمیان فوجی تعاون کوآگے بڑھانے کی اہمیت سے اتفاق کیا۔