روس اور یوکرین

ڈونباس پر روسی گولہ باری، یوکرین کے لیے مغربی ہتھیاروں کی بڑی کھیپ تباہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

یوکرین میں روس کا فوجی آپریشن 87 ویں روز میں داخل ہو گیا ہے۔ ماریوپول شہر میں آزوفیسٹل اسٹیل فیکٹری پر مکمل کنٹرول کے بعد روسی توپ خانوں نے شمال میں ڈونباس پر گولہ باری شدید کر دی ہے۔ یوکرین کی خبر رساں ایجسنی کے مطابق روسی فوج یوکرین کے شمال مشرق میں سومی کے علاقے پر توپ کے گولے داغ رہی ہے۔

انٹرفیکس نیوز ایجنسی نے روسی فوج کے حوالے سے بتایا ہے کہ اس نے یوکرین کے دارالحکومت کئیف کے مغرب میں واقع علاقے زیتومیر میں اسلحے کی ایک بڑی کھیپ تباہ کر دی ہے۔ مغربی ممالک کی جانب سے بھیجی گئی کھیپ کو نشانہ بنانے کے لیے سمندر سے "کیلیبر" میزائلوں کا استعمال کیا گیا۔

روسی فوج نے اس وقت اپنی توجہ یوکرین کے مشرقی اور جنوبی حصے پر مرکوز کی ہوئی ہے۔ ماسکو خاص طور پر ڈونباس پر مکمل کنٹرول حاصل کرنا چاہتا ہے۔ یہ علاقہ 2014ء سے جزوی طور پر روس نواز علاحدگی پسندوں کے قبضے میں ہے۔

أوكرانيا

دوسری جانب برطانوی وزارت دفاع نے کہا ہے کہ روسی فوج کا بڑی تعداد میں ڈرون طیاروں سے ہاتھ دھو بیٹھنا ،،، اس کی جاسوسی کی صلاحیت کو کمزور کر دے گا۔ اقتصادی پابندیوں نے مزید ڈرون طیاروں کی تیاری کے حوالے سے روس کی صلاحیت کو شدید متاثر کیا ہے۔

ادھر یوکرین کے صدر ولودی میر زیلنسکی کا کہنا ہے کہ یوکرین کو اپنے ہیروز زندہ رکھنے کی ضرورت ہے اور وہ انہیں وطن واپس لانے کی خاطر کام جاری رکھے گا۔ زیلنسکی کا یہ بیان آزوفیسٹل اسٹیل فیکٹری سے تقریبا 1000 یوکرینی فوجیوں کے انخلا اور ہتھیار ڈالنے کے بعد سامنے آیا ہے۔

روسی صدر ولادی میر پوتین کا کہنا ہے کہ یوکرینی فوجیوں کے ساتھ بین الاقوامی قوانین کے مطابق معاملہ کیا جائے گا۔ واضح رہے کہ یوکرین نے 24 فروری کو اپنی اراضی پر روسی حملے کے بعد سے جنگی جرائم کے ضمن میں 12 ہزار واقعات کی تحقیقات شروع کر دیں۔

جمعے کے روز ایک 21 سالہ روسی فوجی سارجنٹ واڈیم شیشیمارین نے روسی آپریشن کے آغاز میں ایک نہتے شہری کو ہلاک کرنے کا اقرار کیا۔ یہ اعتراف حالیہ جنگ کے دوران میں جنگی جرم کے ارتکاب کے الزام میں کسی بھی روسی فوجی اہل کار کے خلاف پہلی عدالتی کارروائی میں سامنے آیا۔

یوکرین کے مشرقی علاقے لوگاسک میں یوکرینی اور روسی افواج کے درمیان گھمسان کی لڑائی جاری ہے۔ دونیسک اور لیسیچاسک یہ دونوں لوگاسک کے علاقے میں یوکرینی مزاحمت کے آخری دو مقام رہ گئے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں