امریکا یوکرین میں فوری فوج بھیجنے کو تیار نہیں، حتمی فیصلہ بائیڈن کریں گے: جنرل ملی
امریکی فوج کی جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی کے چیئرمین جنرل مارک ملی کا کہنا ہے کہ امریکا یوکرین میں فوج تعینات کرنے کے لئے فوری طور پر تیار نہیں ہے اور اس ضمن میں حتمی فیصلہ صدر جو بائیڈن کریں گے۔
صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے مارک ملی نے تصدیق کی کہ اس موضوع پر امریکی مقتدر حلقے گفتگو کر رہے ہیں اور ان کا مزید کہنا تھا کہ کسی ایسے منصوبے کی صورت میں ممکنہ صورتحال سے نمٹنے کے لئے نچلی سطح پر تیاریاں کی جا رہی ہیں۔
جنرل مارک کے مطابق "بہر صورت یوکرین میں امریکی فوج کی دوبارہ تعیناتی صدارتی فیصلے کے ذریعے سے ہی ہو گی۔ ابھی ہم اس فیصلے کے قریب نہیں ہیں اور اس ضمن میں منصوبہ بندی کی جاریہ ہے جسے وزیر دفاع کے سامنے بھی پیش نہیں کیا گیا۔"
امریکی صدر جو بائیڈن نے 24 فروری کو روس کے یوکرین پر حملے سے کچھ دن قبل ہی تمام امریکی فوجیوں کو یوکرین سے نکال لیا تھا تاکہ روس کے ساتھ براہ راست تنازعے سے بچا جاسکے۔ اس کے بعد بائیڈن نے یورپ میں نیٹو کے دفاع کو مضبوط کرنے کے لئے اتحادی ممالک میں اضافی نفری تعینات کر رکھی ہے۔
امریکی حکام نے جریدے وال سٹریٹ جرنل کو بتایا تھا کہ امریکی حکومت کیف میں کھولے جانے والے امریکی سفارتخانے کی حفاظت کے لئے اسپیشل فورسز کے دستوں کو بھیجنے پر غور کر رہی ہے۔
-
یوکرین کو مزید ہائی ٹیک ہتھیار بھیج رہے ہیں: پینٹاگان
امریکی وزیر دفاع لائیڈ آسٹن نے انکشاف کیا ہے کہ دُنیا بھر کے تقریباً 50 دفاعی رہ ...
بين الاقوامى -
یوکرین جنگ؛’میں اپنے ملک پربہت شرمندہ ہوں‘:اقوام متحدہ میں روسی سفارت کارمستعفی
جنیوا میں اقوام متحدہ میں ماسکو کے مشن میں تعینات ایک روسی سفارت کار نے یوکرین کے ...
بين الاقوامى -
ڈونباس پر روسی گولہ باری، یوکرین کے لیے مغربی ہتھیاروں کی بڑی کھیپ تباہ
یوکرین میں روس کا فوجی آپریشن 87 ویں روز میں داخل ہو گیا ہے۔ ماریوپول شہر میں ...
بين الاقوامى