امریکا کی بائیڈن انتظامیہ نے بدھ کے روز ایران کی القدس فورس کی قیادت میں تیل کی اسمگلنگ اور منی لانڈرنگ کے بین الاقوامی نیٹ ورک کے خلاف نئی پابندیوں کا اعلان کیا ہے۔ان کی زد میں آنے والوں میں حزب اللہ، چین اور روس کی کمپنیاں بھی شامل ہیں۔
اس نیٹ ورک نے لبنان کی حزب اللہ اور القدس فورس کے لیے کروڑوں ڈالر مالیت کےایرانی تیل کی ترسیل میں معاونت کی تھی۔
امریکی وزیرخارجہ انٹونی بلینکن نے کہا ہے کہ اس نیٹ ورک کوروسی فیڈریشن کی حکومت اور سرکاری اقتصادی کاروباری اداروں کی اعلیٰ سطح پرحمایت حاصل ہے۔
انھوں نے کہا کہ ایران کی القدس فورس اوران کے آلہ کار پورے خطے میں تنازعات اورمصائب کو دوام بخش رہے ہیں۔
محکمہ خزانہ کے انڈرسیکریٹری برائے دہشت گردی اور مالیاتی انٹیلی جنس برائن نیلسن نے واضح کیا ہے کہ واشنگٹن مشرق اوسط میں دہشت گردی کی حمایت پرایرانی حکومت کو جوابدہ بنانے کے لیے مکمل طور پرپُرعزم ہے۔
انھوں نے کہا کہ اگرچہ امریکہ جوہری سمجھوتے کے مکمل نفاذ کے لیے باہمی واپسی کا خواہاں ہے لیکن ہم ان لوگوں کو نشانہ بنانے سے دریغ نہیں کریں گے جو القدس فورس یا حزب اللہ کے لیے مالی معاونت اوربین الاقوامی مالیاتی نظام تک رسائی کے مکمل مواقع مہیا کرتے ہیں۔
امریکا کے اعلان میں ایران کی سپاہ پاسداران انقلاب کے عہدے داروں کے ایک گروپ کو نامزد کیا گیا ہے۔ ترکی میں قائم القدس فورس کے نیٹ ورک، چین میں قائم ایک اور نیٹ ورک اور حزب اللہ کی فرنٹ کمپنی کے خلاف بھی پابندیوں کی منظوری دی گئی ہے۔