حماس نے اسرائیل کے فلیگ مارچ کو چیلنج کرنے کا اعلان کر دیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

غزہ میں اسلامی تحریک مزاحمت [حماس] کے سینئر رہنما باسم نعیم نے بیت المقدس کے مسلم اکثریتی علاقے میں انتہا پسند یہودی آبادکاروں کا نام نہاد فلیگ مارچ روکنے کا مطالبہ کیا ہے۔

برطانوی خبر رساں ایجنسی ’رائیٹرز‘ سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا ’’اسرائیلی حکام جنوبی مارچ روک کر ملک کو کشیدگی اور جنگ سے بچا سکتے ہیں۔‘‘

حماس نے خبردار کیا ہے ’’کہ مسجد اقصیٰ مسلمانوں کے لیے ایک ریڈ لائن کی حیثیت رکھتی ہے۔‘‘

یہودی آباد کاروں نے 1967 کی جنگ میں بیت المقدس کے قدیم علاقے پر قبضہ کر لیا تھا اور 29 مئی بروز اتوار وہ اسی قبضے کی سالگرہ کی یاد میں فلیگ مارچ کرنے والے ہیں۔

آبادکاروں کا یہ اشتعال انگیز مارچ مقبوضہ بیت المقدس میں مسلمانوں کے قدیمی محلے کی تنگ گلیوں سے گزرتا ہوا مسجد اقصی پہنچے گا جہاں یہودی آباد کار تلمودی عبادات ادا کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ اس مارچ کو رکوانے کے لیے تمام قانونی تدابیر ناکام ہو چکی ہیں۔

اسرائیلی وزیر اعظم نفتالی بینیٹ نے سکیورٹی حکام کی جانب سے فلیگ مارچ کو اتوار کے روز دمشق دروازے میں داخلے کے بعد مسلمانوں کے محلے سے گذرنے کی اجازت دینے کے فیصلے کا دفاع کیا ہے۔

نفتالی کی کابینہ کے بعض ارکان نے ان پر زور دیا ہے کہ وہ فلیگ مارچ کے روٹ پر نظر ثانی کریں، انہیں امید ہے کہ عین وقت پر شاید وہ اپنا فیصلہ تبدیل کر لیں۔

مغربی ملکوں کے سینئر سفارت کاروں سمجھتے ہیں کہ نفتالی حماس کے دباؤ میں آ کر ریلی کا روٹ تبدیل نہیں کریں گے۔

نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر ایک سفارت کار نے بتایا کہ ’’گذشتہ ایک برس سے وزارت عظمی کے منصب پر فائز رہنے والے نفتالی اگر مارچ کا راستہ تبدیل کرنے کی حمایت کرتے ہوئے تو یہ ان کی کمزوری کی نشاندہی کرے گا۔‘‘

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں