’’یو ٹیوب نے ماسکو دفتر خارجہ کا بائیکاٹ کیا تو مغربی صحافیوں کو روس سے نکال دیں گے‘‘

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

روس کی وزارت خارجہ نے خبردار کیا ہے کہ ’’اگر یو ٹیوب یا گوگل نے ہماری خاتون ترجمان کی پریس بریفنگز تک اپنی رسائی روکی تو مغربی ملکوں کے اخباری نمائندوں کو روس سے نکال دیا جائے گا۔‘‘

ترجمان ماریا زخورووا روسی خارجہ پالیسی پر ہفتہ وار بریفنگ دیتی ہیں، جس میں یوکرین میں فوجی مداخلت کا معاملہ بھی شامل ہے۔ انھوں نے کہا کہ ان کی بریفنگ کے مندرجات کو بلاک کرنے کے خلاف وزارت خارجہ نے یوٹیوب کو متنبہ کردیا ہے۔

روسی خبر رساں ادارے 'طاس' نے ترجمان کے حوالے سے بتایا ہے کہ ''ہم نے ان کو بتا دیا ہے کہ اگر آپ نے ہماری دوسری بریفنگ کو بلاک کیا تو صحافی یا کسی امریکی ذرائع ابلاغ کے ادارے کو گھر بھیج دیا جائے گا''۔

انھوں نے مزید کہا کہ ''اگر کسی مزید بریفنگ کو بلاک کیا گیا تو ہم مخصوص صحافی یا مخصوص میڈیا کے ادارے کو گھر روانہ کردیں گے'۔

ان کا یہ بیان ایسے میں سامنے آیا ہے جب کچھ ہی روز قبل روسی پارلیمنٹ نے ایک بل کی منظوری دی تھی، جس میں کہا گیا ہے کہ اگر کوئی مغربی ملک روسی میڈیا کے خلاف 'غیر دوستانہ' رویہ برتتا ہے، تو استغاثہ کو ماسکو میں موجود غیر ملکی میڈیا کے دفاتر کے خلاف مقدمہ درج کرنے کا اختیار حاصل ہوگا۔

اس اقدام کا مقصد مغرب کی جانب سے روس کے خبروں کے کچھ سرکاری اداروں کو بند کرنے کے اقدام کے خلاف جوابی کارروائی کرنا ہے۔

مزید تفصیل دیے بغیر ،زخارووا نے بدھ کے روز بتایا کہ روس، انگریزی زبان کے کچھ میڈیا اداروں کے خلاف اقدامات پر غور کر رہا ہے، جن کی بیرونی حکومتوں نے روسی اخباری اداروں کے خلاف غیر دوستانہ اقدام'' کیا ہے۔

مارچ میں صدر ولادیمیر پوتین نے ایک قانون پر دستخط کیے تھے جس میں فوج کے خلاف جان بوجھ کر'جعلی'' خبریں دینے پر 15 برس قید کی سزا دی جا سکتی ہے، جس پر مغربی میڈیا نے اپنے کئی صحافیوں کو روس سے واپس بلا لیا ہے۔ تاہم، رائیٹرز سمیت دیگر مغربی ادارے روس میں موجود ہیں اور وہاں سے خبریں بھیجتے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں