ایرانی وزیر خارجہ حسین امیر عبداللہیان کا کہنا ہے ’’کہ ان کا ملک جوہری معاہدے کی بحالی کے لیے ایک نئی تجویز امریکا کے سامنے پیش کر رہا ہے۔‘‘
انہوں نے مزید کہا ’’کہ دو دن پہلے ہم نے ویانا مذاکرات کی راہ کھولنے کے لیے تجاویز کا ایک نیا پیکج پیش کیا تھا۔ ہم مذاکرات اور عالمی جوہری توانائی ایجنسی [IAEA] کے فیصلے کو سیاسی دباؤ کے تحت نہیں چھوڑیں گے۔"
ایرانی وزیر خارجہ نے اعلان کیا کہ ’’ ان کا ملک اگلے چند گھنٹوں کے اندر اندر جوہری معاہدے کی خلاف ورزی کی صورت میں پارلیمنٹ کی جانب سے منظور کئے جانے والے قانونی اقدامات کے پیکج کو روبعمل لائے گا۔
طهران: اتخذنا قرارا بوقف التعاون مع الوكالة الدولية للطاقة الذرية#العربية pic.twitter.com/fI22uGjlRt
— العربية (@AlArabiya) June 8, 2022
حل طلب مسائل
بین الاقوامی فورمز کے لیے سعودی عرب کے مستقل مندوب شہزادہ عبداللہ بن خالد بن سلطان بن عبدالعزیز آل سعودکا کہنا ہے ’’کہ ایران اپنے جوہری پروگرام کو فروغ دینے کے لیے رُکن ممالک کے صبر کا فائدہ اٹھاتے ہوئے ایسی تشریحات فراہم کرنے کے لیے مبہم رویہ جاری رکھے ہوئے ہے جن کا کوئی اعتبار نہیں ہے۔‘‘
سعودی عرب نے ایران سے مطالبہ کیا کہ وہ توانائی ایجنسی کے ساتھ تعاون کرے اور دیرینہ مسائل حل کرے۔ ہمیں امید ہے کہ بورڈ آف گورنرز کے رکن ممالک ایجنسی اور اس کے ڈائریکٹر کو مکمل تعاون فراہم کریں گے۔
امریکا نے ایران سے بلا تاخیر عالمی جوہری توانائی ایجنسی کے ساتھ تعاون کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے اس بات پر زور دیا ہے کہ وہ ایران کے خلاف قرارداد کا مسودہ ’آئی اے ای اے‘ میں پیش نہیں کرے گا کیونکہ اس سے کشیدگی میں اضافے کا خدشہ ہے۔‘‘
امریکی مندوب نے آئی اے ای اے کے بورڈ آف گورنرز کو بتایا کہ کونسل کی ذمہ داری ہے کہ وہ مناسب اقدامات کرے تاکہ جوہری ذمہ داریاں پورا نہ کرنے پر ایران کا محاسبہ کیا جا سکے۔
ایران کے سرکاری ٹیلی ویژن نے بدھ کے روز خبر دی ’’کہ ایران نے اپنی ایک جوہری تنصیب پر عالمی جوہری توانائی ایجنسی کے لئے مانیٹرنگ کرنے والے دو کیمرے بلاک کر دیے ہیں۔‘‘ رپورٹ میں جوہری تنصیب کے مقام کی وضاحت نہیں کی گئی۔
ویانا میں قائم ایجنسی نے فوری طور پر ایرانی اقدام کو تسلیم نہیں کیا اور نہ ہی اس پر کوئی تبصرہ کیا ہے۔