انکل سام کے دیس میں باحجاب یمنی لڑکی کی’حجاب‘ پربنی پینٹنگ کا جشن

یمنی طالبہ سالی المکلانی کی پینٹنگ کو کانگریس کے ارکان نے منتخب کیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
5 منٹس read

امریکا اور مغربی ملکوں میں جہاں اکثر اسلاموفوبیا کے مکروہ مظاہر دیکھنے کو ملتے ہیں وہیں کبھی کھبار ان ملکوں سے ٹھنڈی ہوا کا کوئی جھونکا بھی محسوس کیا جا سکتا ہے۔ اس کی تازہ ترین مثال یمن کی ایک نوجوان طالبہ کی اسلامی ’حجاب‘ پر تیار کی گئی ایک پینٹنگ ہے جسے امریکی کانگریس کی طرف سے سال کی بہترین پینٹنگ قرار دیا ہے۔ کانگریس کے اس اقدام سے جہاں مسلمانوں میں اطمینان کی لہر دوڑ گئی وہیں اسلام بالخصوص اسلامی پردے کے مخالف عناصر کو تنقید کا موقع فراہم کیا ہے۔

یمنی آرٹسٹ سالی المکلانی نے امریکا میں اس وقت تنازعہ کھڑا کر دیا جب اس کی عربی میں لکھی گئی پینٹنگ "میرا حجاب مجھے مضبوط بناتا ہے" کو کیپیٹل میں پورے ایک سال کے لیے دکھانے کے لیے منتخب کیا گیا۔ یمن کی یہ خوش قسمت لڑکی سال2022ء میں کانگریشنل کے زیراہتمام آرٹ مقابلہ جیتنے والی پہلی عرب مسلمان طالبہ بن گئی ہیں۔ان کی پینٹنگ واشنگٹن میں سینٹرل گورنمنٹ بلڈنگ میں آویزاں کی گئی ہے۔

پردہ دار عرب لڑکیوں کے لیے پیغام

امریکی میڈیا نے نیویارک کے "رینیسانس" ہائی اسکول آف آرٹ میں زیر تعلیم یمنی طالبہ سالی المکلانی کی شائع کی ہے۔ انہوں نے تمام مقابلوں میں پہلی پوزیشن حاصل کی اور اس کی پینٹنگ کو بہترین ڈرائنگ قراردینے کے بعد مکلانی کو ریاست نیویارک کی بہترین آرٹسٹ قرار دیا جا رہا ہے۔ سالی کا تعلق جنوبی یمن کی الضالع گورنری کے گاؤں لودیہ سے ہے۔

غور طلب یہ ہے کہ سالی کی پینٹنگ جس کے لیے انہوں نے "میرا حجاب مجھے مضبوط بناتا ہے" کا عنوان منتخب کیا میں ایک مسلمان خاتون کو نقاب پہنے ہوئے دکھایا گیا ہے۔ ان کا کہنا ہےکہ پینٹنگ کے جشن کی اہمیت امریکا میں بالخصوص اور مغربی ممالک میں بالعموم مسلم خواتین کی قدر و منزلت کو بلند کرنا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ یہ سالی المکلانی کے انکل سام کے دیس میں دیگر ثقافتوں کے سامنے اپنی عرب، یمنی اور اسلامی ثقافت پر قائم رہنے اور اچھی پرورش فخر کا اظہار ہے۔

اپنا باوقار مقابلہ کے جیتنے پر تبصرہ کرتے ہوئے المکلانی نے "العربیہ ڈاٹ نیٹ" کو اپنے فن اور اپنے پیغام کے اس عظیم جشن پر خوشی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اس پینٹنگ کے ذریعے ان کا مقصد ہر باپردہ لڑکی کو پیغام دینا ہے۔ کہ وہ اپنی اقدار پر فخر کریں اور نقاب پہنتے ہوئے اس کے اعتماد کی قدر کریں، کیونکہ یہ کمیونٹی میں اس کے لیے تحریک، طاقت اور تحفظ کا ایک ذریعہ ہے، اور وہ ایسے فن پاروں کو پیش کرتی رہے گی جو عرب ثقافت کا اظہار کرتے ہیں۔"

حجاب سے نفرت کرنے والوں کو جواب

امریکی رکن کانگریس الیگزینڈریا اوکاسیو کورٹیز نے انسٹاگرام پر اپنے آفیشل اکاؤنٹ پر سالی مکلانی کی جیت کا اعلان شائع کرتے ہوئے لکھا کہ انہوں نے سالی کی پینٹنگ کا انتخاب کیا کیونکہ یہ پردے کے خلاف نفرت مخالف بیانیہ کی نمائندگی کرتی ہے۔ یہ پینٹنگ خود اظہار خیال کرنے اور نوجوان خواتین کو بااختیار بنانے کا ایک ذریعہ ہے۔" کانگریس خاتون نے مزید کہا کہ ایک روشن خیال نوجوان مسلم خاتون مصور کی تصویر کشی اسلام مخالف دقیانوسی تصورات اور نقاب کے ساتھ ساتھ اس کے پیلے رنگ کے نقاب اور سیاہ پس منظر کے ساتھ سختی سے متصادم ہے، جو دیکھنے والوں کو حیران کردیتی ہے۔ ایک مضبوط پیغام کے ساتھ خوبصورت آرٹ یقینی طور پر میرے خطے کی نمائندگی کرتا ہے۔ یمنی لڑکی کی تخلیقی صلاحیتوں کو منانے پر مبارکباد دینے کے ساتھ ساتھ امریکا میں اس پر بحث اور تنقید بھی کی جا رہی ہے۔ناقدین کا کہنا ہے کہ ایک عرب لڑکی کی پینٹنگ کا انتخاب کرنے پر کانگریس نے اسلامی "پردے" کی حمایت کا تاثر دیا ہے۔ یہ اقدام امریکی اقدار سے متصادم ہے، کیونکہ یہ کچھ آراء کے مطابق خواتین کی آزادی کو محدود کرتا ہے۔

جبکہ طالبہ سالی نے میڈیا کو بتایا کہ اپنے فنکارانہ کام کے ذریعے وہ امید کرتی ہیں کہ ہر باپردہ لڑکی اپنا حجاب پہن کر آرام دہ اور پر اعتماد محسوس کرے گی کیونکہ یہ معاشرے میں اس کے تحفظ اور طاقت کی نمائندگی کرتا ہے۔

درایں اثنا کونسل آن امریکن- اسلامک ریلیشنز (CAIR) نے اس پینٹنگ کو منتخب کرنے کے لیے رکن کانگریس الیگزینڈریا کورٹیز کا شکریہ ادا کیا۔ کونسل نے اپنے ٹویٹر اکاؤنٹ پر لکھا کہ "کانگریس کے ہالز میں دکھانے کے لیے اس آرٹ ورک کو منتخب کرنے کے لیے آپ کا شکریہ اور شاندار کامیابی پر سالی المکلانی کو مبارکباد۔ ہمیں بہت فخر ہے کہ ہم اس عظیم کامیابی پر پرجوش ہیں۔"

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں