’یمن کی سحرجس نے وطن میں جنگی تباہ کاریوں کو آرٹ کے ذریعے پیش کیا‘

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

"سیلنگ" کے عنوان سے ایک یمنی آرٹسٹ نے تُرکی میں بحیرہ مرمرہ اور آبنائے باسفورس کے کنارے تیرتے ہوئے جہاز پر فائن آرٹس کے فن پاروں کی نمائش کا انعقاد کیا جسے یمن کی ثقافت اور فنون کا ایک ’چھوٹا ماڈل‘ قرار دیا گیا۔

امریکا میں مقیم نوجوان یمنی آرٹسٹ سحر حسن الوذعی نے یمن کے چہرے کو بحال کرنے کے لیے پنکھ کا استعمال کرتے ہوئے جنگ سے تباہ ملک اور اس کی تباہ شدہ میراث کو بحال کرنے کا بیڑا اٹھایا۔آرٹسٹ کا کہنا ہے کہ یمن جیسا پرامن، لوک داستانوں، لوک موسیقی اور ہمہ نوع ثقافت سے بھرپورملک ظلم، غربت اور مصائب کا شکار ہوچکا ہے۔

’العربیہ ڈاٹ نیٹ‘ سے بات کرتے ہوئے ایک انٹرویومیں یمنی آرٹسٹ نے اس نمائش کو ایک نرم مظاہرہ قرار دیا جس نے غریب یمنی عوام کی ثقافت اور شناخت کو تلاش کرنے میں دلچسپی رکھنے والوں کے لیے بھرپور ثقافتی پیغامات فراہم کیے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ میں نے تاریخ کے بیٹوں اور زمین پر قدیم ترین تہذیب کے بچوں کے بارے میں ایک "بصری امن بلیٹن" پیش کیا جس میں بقائے باہمی اور رواداری کے مناظر اور امن کے گیت شامل تھے جو سمندر پار سے عالمی ضمیر کی تقلید کرتے ہیں۔

30 ملین یمنیوں کے درد

سحرنے وضاحت کی کہ "ابحار" ایک یمنی اقدام ہے جس میں پورے ملک کے عوام کے درد کو دور کرنے کے لیےآرٹ کا سہارا لیا گیا۔ اس کے ذریعے اس نے اپنی پینٹنگز میں 30 ملین یمنیوں کے درد کو پیش کرنے کی کوشش کی۔ انہوں نے کہا کہ جہاز "یونس تور1" پر ایک نمائش کا انعقاد کیا گیا۔ اس نمائش کا مقصد بالخصوص یمن اور بالعموم عرب ممالک کا مہذب چہرہ دکھانا ہے۔

سنہ 2015 میں جنگ کے نتیجے میں یمن سے ہجرت کرنے والی اس نوجوان خاتون کا بھی خیال تھا کہ ڈرائنگ بھی وطن کی طرح آزاد ہے اور پنکھ ایک ایسا نرم ہتھیار ہے جس کی طاقت کی کوئی حد نہیں ہے۔

انہوں نے کہا کہ وہ صرف ڈرائنگ کرنے والی آرٹسٹ نہیں ہیں بلکہ ایک سفیر ہیں جو اپنے ملک کی ثقافت کو دنیا تک پہنچانے کے لیے پیش کرتی ہیں۔ نمائش میں صنعاء، حضرمی کے یمنی ورثے کے گانوں کی دھنوں پر پیشکشیں، سرگرمیاں اور لوک رقص شامل ہیں۔

روایتی فیشن اور لوازمات کے شوز

"الشذاب" کی خوشبو، شادی بیاہ کے مواقع پر استعمال ہونے والے ملبوسات، عدنی بخور کے علاوہ سفید کافی اور یمنی کافی کی خوشبو اس کی فضا میں گونجتی تھی۔

لڑکیوں نے روایتی یمنی ملبوسات اور لوازمات کی نمائش کی اور "جنبیہ" میں آرٹ کے تمغے تقسیم کیے کیونکہ یہ یمنی ثقافت کی علامتوں میں سے ایک ہے۔

اس کے علاوہ سحر نے نشاندہی کی کہ وہ سب سے بڑا طبقہ جس پر وہ اپنی نمائشوں اور کاموں میں توجہ مرکوز کرتی ہیں وہ بچوں اور نوجوانوں کا طبقہ ہے جو جنگوں سے گذرے ہیں۔ خواہ وہ یمن میں ہوں یا عرب دنیا کے بحرانی ممالک میں ہوں۔

بین الاقوامی آرٹسٹک روز کلر "گل رنگی" گروپ کی جانب سے منعقد کی جانے والی اس نمائش میں انقرہ میں یمنی سفیر محمد طارق، قونصلر محمد المشہری اور ترکی کی سرکاری شخصیات نے شرکت کی۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں