بھارت میں قبائلی نسلی اقلیت سے تعلق رکھنے والی خاتون دروپدی مرمو ملک کی صدرمنتخب ہوگئی ہیں۔
ملک کی حکمران جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) سے تعلق رکھنے والی رہنما دروپدی مرمو کوقومی جمہوری اتحاد(این ڈی اے) نے صدارتی امیدوار نامزدکیا تھا۔بھارتی پارلیمان اور ریاستی اسمبلیوں میں پیر کو صدارتی انتخاب کے لیے ووٹ ڈالے گئے تھے۔انھوں نے مرکزی پارلیمان اور ریاستی اسمبلیوں پرمشتمل الیکٹورل کالج سے 64 فی صد ووٹ حاصل کیے ہیں۔
وہ ملک میں آباد قدیمی قبائل میں سے ایک سے تعلق رکھنے والی پہلی صدرجمہوریہ اور اس عہدے پر فائز ہونے والی دوسری خاتون بن گئی ہیں۔وہ بھارت کے سب سے بڑے قبائلی گروہوں میں سے ایک سنتھال نسلی اقلیت کی رکن ہیں۔وہ آیندہ پیرکو باضابطہ طور پرصدر کے عہدے کا حلف اٹھائیں گی۔
64 سالہ مرمو مشرقی ریاست اُڑیسہ (اڈیشہ) میں واقع قصبے رائے رنگ پور سے تعلق رکھتی ہیں۔وہ 2015-2021 تک ہمسایہ ریاست جھارکھنڈ کی گورنر رہ چکی ہیں۔اس سے پہلے وہ سنہ 2000ء سے 2004ء تک اڑیسہ میں بی جے پی کے زیرقیادت ریاستی حکومت میں وزیررہی تھیں اور انھوں نے اپنے علاقے میں شہری ڈھانچے کی تعمیروترقی میں نمایاں کردار ادا کیا تھا۔
انھوں نے سیاست میں آنے سے پہلے اسکول معلمہ کی حیثیت سے اپنی عملی زندگی کا آغاز کیا تھا اور وہ وزیر اعظم نریندرمودی کی پارٹی کے ٹکٹ پر دومرتبہ ریاستی اسمبلی کی قانون ساز منتخب ہوئی تھیں۔
مرمو کے والد اوردادا اڑیسہ کے ضلع میوربھنج میں واقع گاؤں بیداپوسی کے سربراہ (سرپنچ) رہے تھے۔وزیراعظم نریندرمودی نے مرمو کو نئی دہلی میں ان کی رہائش گاہ پرآکر صدرمنتخب ہونے پرمبارک باد دی ہے اور ایک ٹویٹ میں لکھا:’’انھیں یقین ہے کہ وہ ایک بہترین صدر ثابت ہوں گی۔وہ صفِ اول سے قیادت کریں گی اوربھارت کے ترقی کے سفر کو مضبوط بنائیں گی‘‘۔
مودی نے مزید لکھاکہ ان کی ریکارڈ فتح ہماری جمہوریت کے لیے نیک شگون ہے اور بھارت نے ایک تاریخ رقم کردی ہے۔
مرمونے اپنے واحدحریف اور حزب اختلاف کے مشترکہ امیدوار،بی جے پی کے سابق باغی رہ نما یشونت سنہا کے خلاف صدارتی انتخاب میں کامیابی حاصل کی ہے۔سنہانے 2018 میں معاشی معاملات پر وزیراعظم مودی کے ساتھ اختلافات کے بعد پارٹی چھوڑ دی تھی۔ اس کے بعد سے وہ مودی اور ان کی حکومت کے سخت ناقد ہیں۔انھوں نے ایک ٹویٹ میں نومنتخب صدر کو مبارک باد دی ہے۔
نومنتخب صدرمرمو کے حامی اور مودی کی جماعت بی جے پی ان کی جیت کو قدیمی قبائلیوں کی فتح اور ان کی برادری کے لیے ایک اہم لمحہ کے طور پردیکھتے ہیں کیونکہ بھارت میں عام طور پر دور دراز علاقوں میں واقع دیہات میں صحت کی دیکھ بھال اور تعلیم کی سہولتوں کا فقدان ہے۔
تاہم حزب اختلاف کی جماعتوں نے اپنے اس شک کا اظہار کیا ہے کہ آیا وہ پسماندہ برادریوں کو بااختیار بنانے اوران کی زندگیوں میں کوئی تبدیلی لانے میں مدد کر سکیں گی یا نہیں۔
واضح رہے کہ بھارت میں صدر کا عہدہ بڑی حد تک رسمی ہے لیکن یہ عہدہ سیاسی غیریقینی صورت حال جیسے معلق پارلیمنٹ کے دور میں اہمیت کا حامل ہوسکتا ہے کیونکہ اس وقت صدر ہی کو زیادہ تراختیارات تفویض ہوتے ہیں۔صدر کی حیثیت سے مرمو ملک کے چیف ایگزیکٹو وزیراعظم کی قیادت میں کابینہ کے مشورے کی پابند ہیں۔
وہ دلت برادری کے رہنما رام ناتھ کووند کی جگہ صدارت کا منصب سنبھالیں گی۔دلّت ہندو مت کے ذات پات کے پیچیدہ نظام میں سب سے نچلے درجے پر ہیں۔کووند 2017ء سے صدر چلے آرہے ہیں۔ان کی مدت صدارت اتوار24 جولائی کوختم ہورہی ہے۔
اب بھارتی قانون سازاگست میں ملک کے نئے نائب صدر کا انتخاب کریں گے۔