وائٹ ہاؤس کے کووِڈ-19 کے رابطہ کارنے بتایا ہے کہ صدرجوبائیڈن کروناوائرس کے مثبت ٹیسٹ کے بعد’’نمایاں بہتری‘‘محسوس کررہے ہیں۔انھوں نے تصدیق کی کہ 79 سالہ صدرامریکا بھرمیں کووِڈ کی پھیلنے والی انتہائی متعدی شکل سے متاثر ہوئے ہیں۔
ڈاکٹراشیش جھا نے سی بی ایس کے پروگرام ’’فیس دا نیشن‘‘ میں اتوار کے روز گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ یہ بی اے.5 قسم ہے لیکن ہماری ویکسین اورعلاج اس کے خلاف اچھی طرح کام کرتے ہیں، یہی وجہ ہے کہ میں سمجھتا ہوں کہ صدر اب نمایاں بہتری محسوس کررہے ہیں۔
انھوں نے مزید کہا کہ ’’ میں نے رات گئے ان کی ٹیم کے ساتھ معائنہ کیا۔وہ ٹھیک محسوس کررہے تھے۔کل ان کا دن اچھا گزرا۔ان کے نظام تنفس میں انفیکشن ہے اور وہ ٹھیک کام کررہا ہے۔ ہمیں آج صبح کوئی اپ ڈیٹس نہیں ملی ہیں، لیکن رات بھر وہ بہت بہتر محسوس کررہے تھے‘‘۔
صدربائیڈن جمعرات کی صبح کروناوائرس کا شکار ہوئے تھے اور ان کے ٹیسٹ کی مثبت رپورٹ آئی تھی۔اس کے بعد سے وہ وائٹ ہاؤس میں الگ تھلگ رہ رہے ہیں۔ وہ کروناوائرس کی اومیکرون شکل کی ایک نئی قسم سے متاثر ہوئے ہیں۔اس قسم کا گذشتہ سال کے آخر میں پتاچلا تھا۔ خیال کیا جاتا ہے کہ امریکا میں کروناوائرس کے حالیہ زیادہ ترکیس اسی قسم سے متاثرہ ہیں۔
انتظامیہ کے حکام نے اس بات پرزور دیا ہے کہ صدربائیڈن کی علامات معمولی ہیں کیونکہ انھیں ویکسین کی چارخوراکیں دی جاچکی ہیں اورانھوں نے متاثرہونے کے بعد اینٹی وائرل دوا پیکسلوویڈ لینا شروع کردی تھی۔
صدرکے معالج ڈاکٹرکیون اوکونر نے ہفتے کے روز اپنی تازہ اپ ڈیٹ میں لکھا تھاکہ بائیڈن کی پہلے کی علامات بشمول ناک بہنا اور کھانسی ’’کم پریشان کن‘‘ ہیں لیکن اب صدر کے جسم اورگلے میں درد ہے۔
ڈاکٹرجھا کا کہنا تھا کہ ہمارے خیال میں امریکی عوام کے لیے یہ جاننا ضروری ہے کہ ان کے صدر کتنی اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کررہے ہیں۔انھوں نے امریکی عوام کو صدر کی صحت کے بارےمیں مسلسل آگاہ رکھنے کا عزم ظاہر کیا ہے۔
انھوں نے واضح کیا کہ اگرکوئی بھی علامات صدر کی فرائض انجام دینے کی صلاحیت میں مداخلت کرتی ہیں تو ہم اس بات سےامریکی عوام کو جلدآگاہ کریں گے۔انھوں نے یہ شُبہ ظاہرکیا ہے کہ یہ کووِڈ کا ایک چکرہے اور ہم نے بہت سے امریکیوں کو اس کا شکار ہوتے دیکھا ہے حالانکہ انھیں مکمل طورپرویکسین لگائی جاچکی تھی اور دو اضافہ تقویتی خوراکیں بھی دی گئی تھیں مگر پھربھی وہ وائرس کا شکار ہوئے ہیں۔