غزہ میں اسلامی جہاد تحریک پر کاری ضرب لگانے کا وقت آ گیا: اسرائیل

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

اسرائیلی فوج کے چیف آف اسٹاف ایویو کوچاوی نے ہفتے کے روز کہا ہے کہ ان کا ملک غزہ کی پٹی میں اسلامی جہاد تحریک کے لیے ایک "مہلک" دھچکے سے نمٹےگا۔

جنوبی ملٹری ریجن کمانڈ کے اپنے معائنے کے دوران کوچاوی نے کہا کہ اسلامی جہاد تحریک کا تعاقب کیا جا رہا ہےاور اب اس پر حملہ کیا جا رہا ہے۔دو روز سے جاری اس فوجی آپریشن میں اسلامی جہاد کے متعدد اہم کمانڈر مارے جا چکے ہیں۔

ٹویٹر پر ترجمان افیحائی ادرعی کے مطابق آرمی چیف نے مزید کہا کہ "ہمارے پاس مختلف قسم کے منصوبے اور آپشنز ہیں۔ ہم یہاں شمال میں یا مغربی کنارے میں کسی بھی تنظیم کو اسرائیل کی ریاست کی خودمختاری کو خطرے میں ڈالنے کی اجازت نہیں دیں گے۔"

انہوں نے مزید کہا کہ "یہ ردعمل کا وقت ہے۔ ہمارا ردعمل ایک واضح ردعمل ہے، پہلے کسی تخریب کاری کی کارروائی کو روکنے کے ساتھ اسلامی جہاد پرمہلک وار کریں گے۔

فعال آپریشن

قابل ذکر ہے کہ اسرائیل نے ہفتے کے روز غزہ پر فضائی حملے کیے تھے، جس کے جواب میں اسلامی جہاد نے اسرائیلی شہروں پر متعدد راکٹ فائرکیے۔

تل ابیب نے کہا کہ اسے اسلامی جہاد تحریک کے خلاف ایک "پیشکی " آپریشن شروع کرنا ہوگا۔ ان کا کہنا تھا کہ اسلامی جہاد کئی روز سے غزہ کی سرحد پر کشیدگی پیدا کیے ہوئے تھے جس کے بعد ہمیں اس کے خلاف کارروائی کرنا پڑی۔

جمعے کے روز تل ابیب نے غزہ پر فضائی حملےشروع کیے جس کے نتیجے میں متعدد ہلاکتیں ہوئی ہیں۔ان میں اسلامی جہاد کے ایک سرکردہ رہنما تیسیر الجبعری بھی شامل ہیں۔

ہفتے کے روز فلسطین ٹی وی نے بتایا کہ اسرائیلی حملوں میں 15 افراد ہلاک اور 125 زخمی ہوئے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں