مصری صدر عبدالفتاح السیسی نے کہا ہے کہ ان کا ملک اسرائیل اور فلسطینیوں کے درمیان امن کی بحالی کے لیے کوشش کر رہا ہے۔ اس سلسے میں حکومتی سطح پر اسرائیل کے ساتھ بھی رابطہ ہے اور فلسطینیوں کے ساتھ بھی۔
صدر السیسی نے مصری فوجی اکیڈمی میں کیڈٹس سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہم چوبیس گھنٹے ان رابطوں میں ہیں تاکہ صورت حال کو کنٹرول سے باہر نہ ہونے دیا جائے اور لڑائی کو روکا جائے۔
دوسری جانب اسرائیلی کی طرف سے جمعہ کے روز سے شروع کیے گئے حملے کے بعد ہفتے کے روز بھی غزہ پر میزائل داغے گئے۔ جن سے فلسطینی شہریوں کا مزید جانی نقصان ہوا۔ تاہم ابھی تک غزہ میں بھاری اکثریت رکھنے والا مقتدر گروپ حماس اس جنگ میں براہ راست نہیں کودا ہے۔
واضح رہے اسرائیل اور حماس کے درمیان ایک سال پہلے جنگ ہو چکی ہے۔ یہ پانچ بڑی جنگوں میں سے ایک تھی۔ دوسری چھوٹی جھڑپیں ان کے علاوہ ہوتی رہی ہیں۔