یمن کے مغربی ساحل پر مشترکہ افواج کے ملٹری میڈیا نے ایک ویڈیو شائع کی ہے جس میں حوثی ملیشیا سے تعلق رکھنے والے ہتھیاروں اور دھماکا خیز مواد کے ایک نئے بحری اسمگلنگ سیل کے اعترافات شامل ہیں۔
نام نہاد احمد حلص، جس کی کنیت ’محمود‘ بتائی گئی ہے،کی سربراہی میں یہ سیل 5 ارکان پر مشتمل ہے جس میں الطیب محمد عبداللہ العمری، حمادہ محمد عبداللہ العمری، خالد احمد عبداللہ علی، محمد بخیت علااللہ بخیت اور عبداللہ یحییٰ عباس منصاری شامل ہیں۔ یہ سب الحدیدہ بندرگاہ پر ملاح کے طور پرکام کرتے ہیں۔
سیل کے ارکان نے اپنے اعترافی بیان میں کہا کہ انھیں حوثی اہلکاروں نے بھرتی کیا تھا جو الحدیدہ (مغربی یمن) کی بندرگاہ کے اندر سے اسمگلنگ کا نیٹ ورک چلاتے ہیں۔ اس کے سربراہ ابو علی الکہلانی سکیورٹی سپروائزر اور ابو سجاد منصور احمد السعدی تھے۔
سیل کے ارکان کے اعترافات نے جیبوتی سے دو کھیپوں کو الحدیدہ کی بندرگاہ پر منتقل کرنے کی بھی تصدیق کی ہے، جب کہ انھیں کوسٹ گارڈ فورسز کی تیسری کارروائی میں بین الاقوامی گزرگاہ (باب المندب آبنائے) کو عبور کرتے ہوئے گرفتار کیا گیا تھا۔
مشترکہ افواج کے میڈیا کے مطابق اعترافات میں حوثی ملیشیا کی جانب سے الحدیدہ بندرگاہ کو فوجی مقاصد کے لیے استعمال کرنے کی اضافی مذمت کی گئی ہے۔
اس نے اقوام متحدہ کی مانیٹرنگ کمیٹی میں حوثی ملیشیا کی نمائندگی کرنے والے عہدیداروں کے ملوث ہونے کا بھی انکشاف کیا ہے جو حدیدہ معاہدے کی حمایت کرتے ہیں۔
کوسٹ گارڈ فورسز (ریڈ سی سیکٹر) محتاط نگرانی اور پیروی کے عمل کے بعد سیل کو گرفتار کرنے میں کامیاب ہوئیں۔ سیل کی گرفتاری حوثی ملیشیا اور ایرانی انقلابی گارڈ کے ماہرین کے لیے ایک اور تکلیف دہ دھچکا ہے۔