دل کی صحت بہتر بنانے میں تربوز کا کردار
گرمی کے موسم میں جب جسم پانی کی کمی کا شکار ہونے لگتا ہے تو ایک عام سا پھل خاموشی سے بڑا کام کر جاتا ہے۔ تربوز اپنی ساخت میں تقریباً 90 سے 92 فیصد پانی رکھتا ہے، جس کی وجہ سے یہ جسم کو ہائیڈریٹ رکھنے کا ایک قدرتی اور مؤثر ذریعہ سمجھا جاتا ہے۔
تاہم اس کے فوائد صرف یہی تک محدود نہیں۔ ویب سائٹ ''ویری ویل ہیلتھ'' کے مطابق تربوز دل کی صحت کو بہتر بنانے میں بھی مددگار ثابت ہو سکتا ہے۔
خون کی روانی بہتر بنانے والا مرکب
تربوز کے دل کی صحت سے متعلق زیادہ تر فوائد ایک قدرتی مرکب سے جڑے ہوئے ہیں، جسے ایل-سیٹرولین (L-citrulline) کہا جاتا ہے، جو بہت سے لوگوں کے لیے کم معروف ہے۔
غذائی ماہرہ جوانا کٹز کے مطابق تربوز اس مرکب کے قدرتی ذرائع میں سے ایک اہم ذریعہ ہے۔ انہوں نے بتایا کہ جسم ایل،سیٹرولین کو استعمال کرتے ہوئے ایک اور امینو ایسڈ ایل،آرگینین (L-arginine) کی سطح بڑھاتا ہے، جو آگے چل کر نائٹرک آکسائیڈ بنانے میں مدد دیتا ہے۔
نائٹرک آکسائیڈ خون کی نالیوں کو پھیلانے اور انہیں ڈھیلا کرنے میں اہم کردار ادا کرتا ہے، جس سے خون کی گردش بہتر ہوتی ہے۔ یہ عمل دل کی صحت اور بلڈ پریشر پر مثبت اثر ڈال سکتا ہے۔
خون کی نالیوں کی کارکردگی میں بہتری
ایک چھوٹی تحقیق میں 17 افراد کو شامل کیا گیا، جنہوں نے دو ہفتوں تک روزانہ 500 ملی لیٹر تربوز کا جوس استعمال کیا، جبکہ ایک دوسرے گروپ کو اسی مقدار میں کیلوریز والا متبادل مشروب دیا گیا۔
نتائج سے معلوم ہوا کہ تربوز کا جوس پینے والوں میں خون کی نالیوں کے پھیلنے (vasodilation) کی صلاحیت میں بہتری دیکھی گئی اور چھوٹی خون کی نالیوں کی کارکردگی سے متعلق بعض اشاریوں میں بھی مثبت تبدیلی سامنے آئی، خاص طور پر کھانے کے بعد بلڈ شوگر بڑھنے کی صورت میں۔
مزید تحقیق نے بھی ان نتائج کی تائید کی ہے۔ ایک سائنسی جائزے میں شامل 17 کلینیکل ٹرائلز سے معلوم ہوا کہ طویل مدت تک تربوز کا باقاعدہ استعمال شریانوں کی سختی (atherosclerosis) کے اشاریوں میں بہتری کا باعث بن سکتا ہے۔
یہ بات اہم ہے کیونکہ شریانوں کی سختی کا تعلق ہائی بلڈ پریشر اور دل و خون کی نالیوں کی بیماریوں، جیسے فالج اور ہارٹ اٹیک کے خطرے میں اضافے سے ہوتا ہے۔
کوئی جادوئی علاج نہیں
اگرچہ نتائج حوصلہ افزا ہیں، غذائی ماہرہ جوانا کٹز نے تربوز کے فوائد کو بڑھا چڑھا کر پیش کرنے سے خبردار کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ سائنسی شواہد ابھی محدود ہیں اور کچھ مطالعات میں تربوز کے خون کی نالیوں کی صحت پر واضح فوائد ثابت نہیں ہو سکے۔
انہوں نے مزید کہا کہ تربوز کو دل کی صحت کے لیے ایک مددگار غذائی جزو سمجھا جا سکتا ہے، لیکن یہ ہائی بلڈ پریشر یا دل کی بیماریوں کا کوئی جادوئی علاج نہیں ہے۔
دیگر غذائی اجزاء
ایل،سیٹرولین کے علاوہ تربوز میں کئی ایسے غذائی اجزاء بھی موجود ہیں جو دل کی صحت کے لیے فائدہ مند سمجھے جاتے ہیں، جن میں سب سے اہم لائیکوپین ہے۔ یہ ایک طاقتور اینٹی آکسیڈنٹ ہے، جس میں سوزش کم کرنے کی خصوصیات پائی جاتی ہیں اور یہ خصوصیت اس لیے اہم ہے کیونکہ دائمی سوزش دل کی بیماریوں کے خطرے کو بڑھا سکتی ہے۔
اس کے علاوہ تربوز میں وٹامن سی، پوٹاشیئم اور میگنیشیئم بھی پایا جاتا ہے، جو تینوں دل اور خون کی نالیوں کی صحت برقرار رکھنے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔
زیادہ صحت مند غذائی عادات؟
کچھ مطالعات سے یہ اشارہ ملتا ہے کہ جو افراد باقاعدگی سے تربوز کھاتے ہیں، وہ مجموعی طور پر زیادہ صحت مند غذائی عادات اپنانے کا رجحان رکھتے ہیں۔
ایک وسیع امریکی تحقیق میں بالغ افراد اور بچوں کے ڈیٹا کا جائزہ لیا گیا، جس سے معلوم ہوا کہ تربوز استعمال کرنے والے افراد غذائی معیار کے اسکور میں دوسروں کے مقابلے میں بہتر کارکردگی دکھاتے ہیں۔
نتائج کے مطابق یہ افراد اپنی غذا میں زیادہ مقدار میں غذائی ریشہ، پوٹاشیئم، میگنیشیئم، وٹامن اے، کیروٹینوئڈز اور لائیکوپین حاصل کرتے ہیں۔
دوسری جانب وہ اضافی چینی اور سیر شدہ چکنائی (saturated fats) کم مقدار میں استعمال کرتے ہیں۔تاہم محققین واضح کرتے ہیں کہ ان نتائج سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ صرف تربوز ہی اس بہتری کا سبب ہے۔ ممکن ہے کہ تربوز کھانے والے افراد عمومی طور پر پھلوں کا زیادہ استعمال کرتے ہوں یا وہ میٹھائیوں اور پراسیسڈ اسنیکس کے بجائے اسے متبادل کے طور پر استعمال کرتے ہوں۔
اس کے باوجود مجموعی نتیجہ مثبت ہے، کیونکہ تربوز ایک آسان، مزیدار اور مفید طریقہ ہے جو لوگوں کو اپنی خوراک میں پھلوں کی مقدار بڑھانے میں مدد دیتا ہے۔