صومالیہ، دو کار بم دھماکوں کے بعد حیات ہوٹل پر دہشت گردوں کا قبضہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

نامعلوم حملہ آوروں نے صومالی دارالحکومت میں دھماکوں کے بعد حیات ہوٹل کا کنٹرول سنبھال لیا ہے۔ ہوٹل کو اپنے کنٹرول میں لینے سے پہلے جمعہ کے روز دو کار بم دھماکے کیے گئے اور فائرنگ کی گئی۔

سرکاری افسران کے مطابق دونوں کار بم دھماکوں سے حیات ہوٹل کو ہی نشانہ بنایا گیا۔ ایک کار بم دھماکہ ہوٹل کے ساتھ قائم بیرئیر پر ہوا اور دوسرا ہوٹل کے گیٹ پر کیا گیا۔ ایک پولیس افسر جس کا نام احمد بتایا گیا ہے کہا 'ہمیں یقین ہے کہ اس وقت دہشت گرد ہوٹل کے اندر موجود ہیں۔ دو انٹیلی جنس افسروں نے اپنی شناخت ظاہر نہ کی مگر اس سارے واقعے کی تصدیق کی ہے۔

دوسری جانب القاعدہ سے منسلک الشباب گروپ نے اس واقعے کی ذمہ داری قبول کر لی ہے۔ موقع پر موجود انٹیلی جنس گروپ نے بھی الشباب کے اس بیان کی تصدیق ہے۔ حیات ہوٹل ارکان پارلیمنٹ اور سرکاری افسران کی آمدو رفت کے حوالے سے کافی اہم سمجھا جاتا ہے۔

جمعہ کے روز ہونے والے کار بم دھماکے نئے صدر حسن شیخ محمود کے بر سر اقتدار آنے کے بعد دہشت گردی کی پہلی بڑی کارروائی ہے۔ ماضی میں بھی اس طرح کے واقعات کی ذمہ داری الشباب نے قبول کی ہے۔ اگست 2020 کو ایک اور ہوٹل میں کیے گئے دھماکے سے کم از کم 16 افراد ہلاک ہو گئے تھے۔

مقبول خبریں اہم خبریں