نامعلوم حملہ آوروں نے صومالی دارالحکومت میں دھماکوں کے بعد حیات ہوٹل کا کنٹرول سنبھال لیا ہے۔ ہوٹل کو اپنے کنٹرول میں لینے سے پہلے جمعہ کے روز دو کار بم دھماکے کیے گئے اور فائرنگ کی گئی۔
سرکاری افسران کے مطابق دونوں کار بم دھماکوں سے حیات ہوٹل کو ہی نشانہ بنایا گیا۔ ایک کار بم دھماکہ ہوٹل کے ساتھ قائم بیرئیر پر ہوا اور دوسرا ہوٹل کے گیٹ پر کیا گیا۔ ایک پولیس افسر جس کا نام احمد بتایا گیا ہے کہا 'ہمیں یقین ہے کہ اس وقت دہشت گرد ہوٹل کے اندر موجود ہیں۔ دو انٹیلی جنس افسروں نے اپنی شناخت ظاہر نہ کی مگر اس سارے واقعے کی تصدیق کی ہے۔
دوسری جانب القاعدہ سے منسلک الشباب گروپ نے اس واقعے کی ذمہ داری قبول کر لی ہے۔ موقع پر موجود انٹیلی جنس گروپ نے بھی الشباب کے اس بیان کی تصدیق ہے۔ حیات ہوٹل ارکان پارلیمنٹ اور سرکاری افسران کی آمدو رفت کے حوالے سے کافی اہم سمجھا جاتا ہے۔
جمعہ کے روز ہونے والے کار بم دھماکے نئے صدر حسن شیخ محمود کے بر سر اقتدار آنے کے بعد دہشت گردی کی پہلی بڑی کارروائی ہے۔ ماضی میں بھی اس طرح کے واقعات کی ذمہ داری الشباب نے قبول کی ہے۔ اگست 2020 کو ایک اور ہوٹل میں کیے گئے دھماکے سے کم از کم 16 افراد ہلاک ہو گئے تھے۔
-
صومالیہ: امریکا کی الشباب کے ٹھکانوں پر بمباری، دو جنگجو ہلاک
امریکی فوج نے صومالیہ میں القاعدہ سے وابستہ شدت پسند تنظیم الشباب کے ٹھکانوں پر ...
بين الاقوامى -
صومالیہ میں کار بم دھماکا، متعدد عمارات ملبے کا ڈھیر بن گئی، پانچ افراد ہلاک
ایک زور دار کار بم دھماکے کے نتیجے میں کم از کم پانچ افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔ یہ ...
بين الاقوامى -
افغانستان سے انخلاء کے بعد سیکڑوں امریکی فوجیوں کی صومالیہ میں تعیناتی کی منظوری
امریکی حکام نے بتایا ہے کہ صدر جو بائیڈن نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے دور میں افغانستان ...
بين الاقوامى