سعودی عرب نے یمن میں ایرانی بازو حوثی ملیشیا کے پانچ فوجی رہنماؤں کو ملیشیا کی حمایت کرنے والی سرگرمیوں سے وابستہ ہونے کی وجہ سے دہشت گردی کی فہرست میں شامل کیا ہے۔
صدارت عامہ برائے ریاستی سلامتی نے بدھ کے روز ایک بیان میں کہا کہ درجہ بندی دہشت گردی کے جرائم اور اس کی مالی اعانت سے نمٹنے کے نظام کے تحت عمل میں لائی گئی ہے اوریہ اقدام سلامتی کونسل کی قرارداد 1373 مجریہ 2001 اور اس کے بعد کی متعلقہ قراردادوں کے مطابق ہے۔ اس قرارداد میں ان لوگوں کو نشانہ بنایا جاتا ہے جو دہشت گردی کے جرائم کو مالی امداد فراہم کرتے ہیں یا دہشت گردوں یا دہشت گردانہ کارروائیوں کی حمایت کرتے ہیں۔
سعودی عرب میں دہشت گردی کی فہرست میں شامل حوثیوں میں منصور احمد السعدی (السعادی)، احمد علی الحمزی، محمد عبدالکریم الغماری، زکریا عبداللہ یحییٰ حجر اور احمد محمد علی الگوہری شامل ہیں۔
سعادی کون ہے؟
حوثی ملیشیا نے اپنی صفوں میں ایک سرکردہ رہ نما منصور احمد السعدی کو "سجاد" کے نام سے بحری افواج کا جنرل سپروائزر مقرر کیا ہے۔اس کے علاوہ اسے ان ملحقہ فورسز کا چیف آف اسٹاف نامزد کیا۔
’العربیہ ڈاٹ نیٹ‘ کی نگرانی میں بحری بارودی سرنگیں لگانے اور بین الاقوامی نیویگیشن کو نشانہ بنانے کے لیےبمبار کشتیوں کی تیاری میں مہارت رکھتا ہے۔ اس کے علاوہ وہ ایرانی پاسداران انقلاب اور لبنانی حزب اللہ کے ماہرین کو تربیت دیتا ہے۔
السعادی کا تعلق صعدہ گورنری کے علاقے فوط مران سے ہے، جو حوثی باغی ملیشیا کا اہم گڑھ ہے۔ اسے ملیشیا کے رہ نما عبدالملک الحوثی کے اہم ترین ہتھیاروں میں سے ایک سمجھا جاتا ہے اور اس کے ایرانیوں کے ساتھ قریبی تعلقات ہیں۔ .
وہ ملیشیا رہ نما کے قریبی ساتھیوں میں سے ایک اور ان کے سب سے نمایاں فوجی ہتھیاروں میں سے ایک ہے، جسے اس نے مغربی ساحل پر بھیجا تھا۔
نجی ذرائع کے مطابق الساعدی کا شمار ان حوثی رہ نماؤں میں ہوتا ہے جنہوں نے ایران میں وسیع تربیت حاصل کی جہاں اسے ایران کے پاسداران انقلاب نے تربیت دی اور وہ یمن میں ایرانی ہتھیاروں کی اسمگلنگ کی نگرانی کر رہا تھا۔
السعدی ایرانی بحری جہاز جیہان کے عملے میں شامل تھا، جسے 2012 میں یمنی ساحل سے پکڑا گیا تھا۔ اس پرایران سے ہتھیاروں اور دھماکہ خیز مواد کی ایک کھیپ حوثی ملیشیا کے لیے جاتے ہوئے ضبط کیا گیا تھا
امریکا نے حوثی رہ نما السعدی پر شہریوں، پڑوسی ممالک اور جہاز رانی کو نشانہ بنانے میں کردار ادا کرنے پر پابندیاں عائد کر رکھی ہیں۔
حوثی رہ نما احمد علی احسن الحمزی کے بارے میں کوئی معلومات دستیاب نہیں ہیں، سوائے اس کے کہ اس کا تعلق صعدہ گورنری میں مران کے علاقے سے ہے جو حوثی ملیشیا کا اہم گڑھ ہے۔ الحمزی 2019 کے اوائل میں اس عہدے پر فائز ہوئے۔
-
سعودی عرب نے ایران کے حمایت یافتہ حوثیوں سے وابستہ پانچ یمنیوں کودہشت گرد قراردے دیا
سعودی عرب نے یمن میں ایران کے حمایت یافتہ حوثیوں سے وابستہ پانچ افراد کودہشت گرد ...
بين الاقوامى -
حوثیوں کا یمن کے ایک گاؤں پر دھاوا، "زینبیات" کے ہاتھوں خواتین پر تشدد
ایرانی حمایت یافتہ حوثی ملیشیا کی جانب سے دارالحکومت صنعا کے شمال میں واقع ارحب ...
بين الاقوامى -
حوثی ملیشیا کا الحدیدہ بندرگاہ کو فوجی مقاصد کے لیے استعمال کرنے کا اعتراف
یمن کے مغربی ساحل پر مشترکہ افواج کے ملٹری میڈیا نے ایک ویڈیو شائع کی ہے جس میں ...
بين الاقوامى