ہزاروں سابق اسرائیلی افسران کا بائیڈن سے ایران کے ساتھ معاہدہ نہ کرنے کا مطالبہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

5,000 سے زیادہ اسرائیلی افسران نے صدر بائیڈن کو ایک مکتوب ارسال کیا ہے جس میں ان پر زور دیا گیا ہے کہ وہ ایران کے ساتھ نئے جوہری معاہدے پر دستخط نہ کریں اور یہ دلیل دی جائے کہ اس وقت جو معاہدہ طے پا رہا ہے اس سے ایران کو جوہری ہتھیاروں کے لیے ایک واضح راستہ ملتا ہے۔

مکتوب میں کہا گیا ہے کہ "ایران کو جوہری ہتھیاروں کے حصول سے روکنے کے لیے آپ کی انتظامیہ کے بار بار بیان کردہ عزم کے باوجود یہ معاہدہ ایران کے لیے 2031 تک جوہری ہتھیار حاصل کرنے کے لیے ایک واضح قانونی راستہ پیدا کرتا ہے، جبکہ دستخط کرنے والوں کو اس امکان کو روکنے کے لیے کسی بھی متبادل آپشن سے محروم کر دیتا ہے۔"

یہ پیغام ان رپورٹوں کے بعد آیا ہے جب گذشتہ ہفتے یہ تجویز کیا گیا تھا کہ ایران کے ساتھ ایک تجدید معاہدہ حقیقت کے قریب ہو سکتا ہے کیونکہ ایران نے کچھ مطالبات ترک کر دیے ہیں جنہیں امریکا تسلیم کرنے کو تیار نہیں تھا۔

تاہم ایک نئی ڈیل کے امکان نے بہت سے اسرائیلی سکیورٹی حکام کو پریشان کر دیا ہے، جن کا موقف ہے کہ یہ معاہدہ مشرق وسطیٰ میں جوہری ہتھیاروں کے پھیلاؤ کی راہ ہموار کرے گا۔

بائیڈن کو لکھے گئے خط میں کہا گیا ہے کہ ’’یہ معاہدہ علاقائی جوہری ہتھیاروں کی دوڑ کا آغاز کرے گا، جس میں خطے کے دیگر ممالک ایران کے خطرے کو کم کرنے کے لیے جوہری ہتھیار تیار کرنے یا حاصل کرنے کی کوشش کریں گے۔‘‘

مکتوب میں کہا گیا ہے کہ نئی ڈیل ایران کے لیے اس وقت غیر دستیاب فنڈز کو غیر منجمد کر دے گی۔ اس ملک نے اس سے قبل اس طرح کی دولت کو "خطے اور اس سے باہر دہشت گردی اور عدم استحکام کو برآمد کرنے کے لیے استعمال کیا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں