کابل:داعش نےروسی سفارت خانہ کے باہرمہلک بم حملے کی ذمہ داری قبول کرلی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

سخت گیرجنگجو گروپ داعش نے افغانستان کے دارالحکومت کابل میں روسی سفارت خانے کے قریب خودکش بم حملے کی ذمہ داری قبول کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔سوموار کو اس بم دھماکے میں سفارت خانہ کے عملہ کے دوارکان اور چار دیگرافراد ہلاک ہو گئے۔

انتہا پسند گروپ نے ٹیلی گرام چینلز کے ذریعے ایک بیان میں کہا کہ داعش کے ایک جنگجو نے سفارت خانے کے قریب ایک اجتماع میں اپنی خودکش جیکٹ کو دھماکے سے اڑا دیا۔اس اجتماع میں سفارت خانہ کے روسی ملازمین بھی شریک تھے۔

روسی وزارت خارجہ نے بتایا کہ کابل میں روسی سفارت خانے کے داخلی دروازے کے قریب بم دھماکے میں عملہ کے دوارکان ہلاک اور11 دیگرافراد زخمی ہو گئے۔

پولیس کا کہنا ہے کہ واقعہ میں دو افراد ہلاک ہوئے تھے لیکن انھوں نے ان مہلوکین کی شناخت نہیں بتائی جبکہ حملہ آور کو مسلح محافظوں نے گیٹ کے قریب پہنچتے ہی گولی مارکرہلاک کردیا تھا۔

خودکش حملہ آور کو ہدف تک پہنچنے سے پہلے روسی سفارت خانے کے (طالبان)محافظوں نے پہچان لیا تھا اور پھر گولی مار دی۔ پولیس ضلع کے سربراہ مولوی صابر نے رائٹرز کو بتایا کہ ابھی تک ہلاکتوں کے بارے میں کوئی معلومات نہیں ہیں۔

روسی وزارت خارجہ نے مزید بتایا ہے کہ ایک نامعلوم عسکریت پسند نے کابل کے وقت کے مطابق صبح 10 بج کر50 منٹ پر سفارت خانے کے قونصلر سیکشن کے داخلی دروازے کے قریب دھماکاخیز مواد کواڑایا ہے۔

روس ان چند ممالک میں سے ایک ہے جنھوں نے ایک سال سے زیادہ عرصہ قبل طالبان کے ملک پر قبضہ کرنے کے بعد کابل میں اپنا سفارت خانہ برقرار رکھاہوا ہے۔اگرچہ ماسکو طالبان کی حکومت کو باضابطہ طور پر تسلیم نہیں کرتا لیکن وہ افغان حکام کے ساتھ گیسولین اور دیگراجناس کی برآمدات کے معاہدے پر بات چیت کررہا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں